معروف شاعرہ، مصنفہ اور سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج برائے خواتین بسمل صابری انتقال کرگئیں

بسمل صابری ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حافظ آباد رانا فواد احمد کی والدہ بھی تھیں

معروف شاعرہ، مصنفہ اور سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج برائے خواتین محترمہ بسمل صابری قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔

رپورٹ کے مطابق بسمل صابری کا شمار پاکستان کی ان معروف شاعروں میں ہوتا تھا جنہوں نے غزل نظم نعت اور نثر کے میدان میں منفرد اسلوب کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

ان کی شاعری میں محبت احساس سماجی شعور روحانیت اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے جس کے باعث انہیں ادبی دنیا میں سخن کی جادوگر اور غزل رانی کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔

مرحومہ کے متعدد شعری اور نثری مجموعے اہلِ ذوق میں بے حد مقبول رہے جن میں پانی کا گھر، یادوں کی بارش، روشنیوں کے رنگ، رس کی پھوار اور نعتیہ و نثری مجموعہ بیاضِ نظر نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک اردو ادب کے حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں 2019ء میں انہیں پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی جانب سے ممتاز مجید امجد ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جو ان کی ادبی عظمت کا اہم اعتراف سمجھا جاتا ہے۔

بسمل صابری 17 جولائی 1973ء کو منٹگمری (موجودہ ساہیوال) میں پیدا ہوئیں۔ وہ پیشہ ورانہ طور پر شعبۂ تدریس سے وابستہ رہیں اور تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ ادب کی ترویج و ترقی میں بھی سرگرم کردار ادا کرتی رہیں۔ ان کی شاعری مختلف قومی و بین الاقوامی ادبی جرائد، مشاعروں اور ادبی تقریبات کا مستقل حصہ رہی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مرحومہ کی نمازِ جنازہ آج شام طارق بن زیاد کالونی ساہیوال میں ادا کی جائے گی جس میں ادبی سماجی اور سرکاری شخصیات سمیت بڑی تعداد میں اہلِ علاقہ کی شرکت متوقع ہے۔

بسمل صابری ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حافظ آباد رانا فواد احمد کی والدہ بھی تھیں۔ ان کے انتقال پر ملک بھر کی ادبی علمی اور سماجی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسمل صابری کی ادبی خدمات، منفرد شاعری اور تخلیقی ورثہ ہمیشہ اردو ادب کا قیمتی سرمایہ رہیں گے

 

Load Next Story