خلیجی ممالک متحد، سعودی عرب پر حملوں کو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا

سیاسی مبصرین کے مطابق ان حملوں کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے

منامہ: بحرین اور خلیجی تعاون کونسل نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے منسلک مسلح گروپوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانا علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور ایسے حملے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

بحرین نے اپنے بیان میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے ہر قانونی اقدام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

دوسری جانب خلیجی تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب کو مسلسل نشانہ بنانا ایک خطرناک اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔

جاسم البدیوی نے مزید کہا کہ خلیجی تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہیں اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔

تاحال ایران یا ان گروپوں کی جانب سے، جن پر حملوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ان حملوں کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی توانائی کی منڈی اور علاقائی سفارتی صورتحال بھی اس پیش رفت سے متاثر ہو سکتی ہے۔

Load Next Story