راجا پرویز اشرف کے آزاد کشمیر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے سنگین الزامات

الیکشن کمیشن نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا، رہنما پیپلز پارٹی

اسلام آباد:

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس انتخابی بے ضابطگیوں کے واضح ویڈیو شواہد موجود ہیں، تاہم الیکشن کمیشن نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 27 جولائی کو کوٹلی میں بھی انہوں نے میرپور الیکشن کے حقائق عوام کے سامنے رکھے تھے، مگر مسلم لیگ (ن) نے ان کی پریس کانفرنس کا تمسخر اڑایا جبکہ ہم الزامات کے بجائے حقائق اور شواہد پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں ان کے امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ووٹ جلانے سمیت متعدد بے ضابطگیوں کی ویڈیوز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کے دوران یہ ویڈیوز پروجیکٹر پر چلائی جا رہی تھیں، تاہم فنی خرابی کے باعث سسٹم بند ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے ویڈیوز کے بغیر ہی گفتگو جاری رکھی۔

انہوں نے کہا کہ حلقہ ایل اے-12 میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 785 تھی، جہاں مخالف امیدوار کو 639 ووٹ جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری یاسین کے لیے صرف 12 ووٹ درج کیے گئے، جبکہ ریکارڈ میں تمام ووٹ کاسٹ ظاہر کیے گئے۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ معدد ووٹرز بیرون ملک تھے، اس کے باوجود 100 فیصد پولنگ دکھائی گئی۔ اسی طرح ایل اے-15 میں بھی تمام ووٹ کاسٹ ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور ایک بھی ووٹ مسترد نہیں ہوا، جو سوالیہ نشان ہے۔

سابق وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ پیش کیے گئے شواہد کا فوری جائزہ لیا جائے، جبکہ چیف جسٹس آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ وہ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کا ازخود نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ متنازع حلقوں میں نتائج پر نظرثانی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

راجا پرویز اشرف نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے مزید دو مراحل یکم اور 10 اگست کو ہونے ہیں، اس لیے انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے۔

متعلقہ

Load Next Story