ہڈیوں کی مضبوطی کیلئے صرف دودھ پینا کافی نہیں، ماہرین نے اہم غذائیں بتا دیں
ہڈیوں کی صحت کے بارے میں عموماً بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ دودھ پینے سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے صرف دودھ کافی نہیں۔ ہماری خوراک میں موجود مختلف غذائی اجزا، جسمانی سرگرمی اور عمر کے ساتھ طرزِ زندگی بھی ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق صرف بڑھتی عمر سے نہیں بلکہ بچپن اور جوانی سے ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کی پروفیسر اور عالمی عضلاتی و ہڈیوں کی صحت کی ماہر کیٹ وارڈ کے مطابق بچپن اور ابتدائی جوانی میں ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور ابتدائی جوانی میں اپنی زیادہ سے زیادہ کثافت تک پہنچتی ہیں۔
اس کے بعد عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کی کثافت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، اسی لیے زندگی کے ابتدائی برسوں میں بننے والی ہڈیوں کی مضبوطی بعد کی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ افراد آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں، جس میں ہڈیاں کمزور، پتلی اور نازک ہو جاتی ہیں۔ رائل آسٹیوپوروسس سوسائٹی کی ماہر جولی تھامسن کے مطابق آسٹیوپوروسس اور آسٹیوپینیا اکثر ’خاموش بیماریاں‘ ہوتی ہیں کیونکہ ان کی علامات اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتیں جب تک ہڈی میں ایسا فریکچر نہ ہوجائے جو زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ہڈیوں کی کمزوری کتنی خطرناک ہو سکتی ہے؟
55 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ سے زائد ہِپ فریکچر ہوتے ہیں، جن کے نتیجے میں نمونیا یا دل کے دورے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 60 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 30 فیصد افراد ہِپ فریکچر کے ایک سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں، اگرچہ عمر اور پہلے سے موجود طبی مسائل جیسے دیگر عوامل بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خواتین میں مینوپاز کے دوران ہڈیوں کی کثافت کم ہونے کا خطرہ خاص طور پر بڑھ جاتا ہے، تاہم مرد بھی آسٹیوپوروسس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ٹفٹس یونیورسٹی کی پروفیسر اور ہڈیوں و پٹھوں کے افعال کی ماہر بیس ڈاسن ہیوز کے مطابق ماضی میں آسٹیوپوروسس کو زیادہ تر خواتین کی بیماری سمجھا جاتا تھا، لیکن اب مرد بھی زیادہ عمر تک زندہ رہتے ہیں، اس لیے ان میں بھی یہ بیماری سامنے آرہی ہے۔
ہڈیوں کیلئے کون سے غذائی اجزا ضروری ہیں؟
ماہرین کے مطابق کیلشیم، وٹامن ڈی اور پروٹین ہڈیوں کی صحت کے بنیادی غذائی اجزا ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن کے، میگنیشیم، زنک اور فاسفورس بھی ہڈیوں اور پٹھوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
- دودھ، پنیر اور دہی
دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کیلشیم کے اہم ذرائع ہیں۔ تقریباً 200 ملی لیٹر دودھ میں 260 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔
- سویا بھی ہڈیوں کیلئے مفید
جو لوگ ڈیری مصنوعات کم استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے سویا سے بنی غذائیں بھی کیلشیم حاصل کرنے کا اچھا ذریعہ ہیں۔ ٹوفو اور ایڈامامے اس کی مثالیں ہیں۔ تقریباً 100 گرام ٹوفو میں 200 ملی گرام کیلشیم ہو سکتا ہے۔
- چیا سیڈز بھی ایک اچھا انتخاب
چیا سیڈز کیلشیم، میگنیشیم اور فاسفورس کا اچھا ذریعہ ہیں۔ صرف ایک کھانے کا چمچ تقریباً 95 ملی گرام کیلشیم فراہم کر سکتا ہے۔
جانوروں پر کی گئی تحقیق میں چیا سیڈز استعمال کرنے والے چوہوں میں ہڈیوں کے معدنی اجزا بہتر پائے گئے، تاہم انسانوں میں اس کے حتمی اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
- خشک انجیر اور دیگر پھل
خشک پھل بھی ہڈیوں کی صحت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔ دو خشک انجیر تقریباً 100 ملی گرام کیلشیم فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ ایک نارنجی میں تقریباً 50 ملی گرام کیلشیم ہو سکتا ہے۔
پھلوں میں موجود پولی فینولز نامی قدرتی نباتاتی مرکبات میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات بھی ہوتی ہیں، جو ہڈیوں کے ٹوٹنے کے عمل کو سست کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔
- مچھلی سے کیلشیم اور وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے
چھوٹی ڈبہ بند سارڈینز کیلشیم کا اچھا ذریعہ ہو سکتی ہیں۔ تقریباً 60 گرام کی ایک ٹِن سارڈینز روزانہ درکار کیلشیم کا 30 فیصد تک فراہم کر سکتی ہے، جس میں تقریباً 240 ملی گرام کیلشیم ہو سکتا ہے۔
پروفیسر بیس ڈاسن ہیوز کے مطابق ہڈیوں اور پٹھوں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی نظام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق پٹھوں کی طاقت برقرار رکھنے سے گرنے کا خطرہ کم اور فریکچر کا امکان نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
متوازن غذا کے ساتھ ورزش بھی ضروری
ماہرین کے مطابق ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کا بہترین طریقہ متوازن، متنوع اور غذائیت سے بھرپور غذا کے ساتھ وزن اٹھانے والی جسمانی ورزش کو معمول کا حصہ بنانا ہے۔
یعنی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے صرف دودھ کا گلاس کافی نہیں؛ بچپن سے لے کر بڑھتی عمر تک ہماری مجموعی غذا، جسمانی سرگرمی اور طرزِ زندگی ہڈیوں کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔