دبئی میں غیرقانونی مقیم تارکین وطن کیلئے مراعات، دستاویزات کیلئے تعاون کا اعلان

آخر ہم سب انسان ہیں، ہم تمام قومیتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں اور سب برابر ہیں، جنرل محمد احمد المری

فوٹو: گلف نیوز

دبئی میں غیرقانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کے بجائے مراعات دینے، امگریشن قوانین میں نرمی اور وطن واپسی کے لیے دستاویزات بنانے میں مدد فراہم کرنے اور دیگر سہولیات کا اعلان کیا گیا ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (جی ڈی آر ایف اے) دبئی کے سینٹر فار ہاربرنگ کے اندر ایسی سہولیات میسر ہیں جسے کے بارے میں عام طور پر تصور نہیں کیا جاسکتا اور یہاں ویزا ختم ہونے کے بعد غیرقانونی طور پر مقیم افراد یا رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو سزا کے طور پر جیل بھیجنے کے بجائے یہاں رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رہائشی قوانین کی خلاف ورزی یا غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے بجائے رہائشی ہاسٹل، طبی کلینکس، تفریحی جگہیں اور بچوں کے کھیلنے کے لیے جگہ بھی موجود ہے، صحت کی سہولیات، روزانہ کھانا، ذاتی نگہداشت، سماجی معاونت اور تارکین وطن کو اپنے ملک واپسی سے قبل سفری دستاویزات حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ جی ڈی آر ایف اے کا پیغام واضح ہے کہ امیگریشن قوانین کا نفاذ انسانی وقار کو مجروح کیے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔

جی ڈی آر ایف اے دبئی کی جانب سے وائیولیٹرز اینڈ فارنرز فالو اپ سیکٹر میں پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل جی ڈی آر ایف اے لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے مختلف سہولیات اور مراعات سے آگاہ کیا اور صحافیوں کو اس حوالے سے قائم مرکز سینٹر فار ہاربرنگ کا دورہ کرانے سے قبل ادارے کے انسانی ہمدردی پر مبنی طریقہ کار کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مرکز اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے کہ لوگوں کی دیکھ بھال کی جائے گی اور انہیں متحدہ عرب امارات سے واپسی سے قبل درکار قانونی کارروائی مکمل کر رہے ہوں، ہم متحدہ عرب امارات میں ہیں اور ہم انسان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، ہم کوئی جیل نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں دوبارہ سوچ سکتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکز آنے والے بہت سے افراد دراصل ان جھوٹے وعدوں کا شکار ہوتے ہیں جو انہیں متحدہ عرب امارات سفر کرنے سے پہلے کیے گئے تھے، انہیں اپنے ملک میں دھوکا دیا گیا، یہی ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے، یہ ان کی غلطی نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے انہیں اپنے ملک میں غلط لوگوں کا سامنا کرنا پڑا۔

جنرل محمد احمد المری نے کاہ کہ ادارہ اپنی خدمات کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ہم اپنی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہر تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

غیرقانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے لیے مراعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سینٹر فار ہاربرنگ وائیولیٹرز اینڈ فارنرز فالو اَپ سیکٹر کے تحت کام کرنے والے اہم مراکز میں سے ایک ہے اور اس کا کردار صرف رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عارضی رہائش فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مرکز ایک مربوط ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے جو قانون کے نفاذ اور انسانی وقار کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے جبکہ معاشرے کے تحفظ اور معیار زندگی بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرکز میں موجود افراد کو رہائش اور قیام کی سہولیات، سماجی اور انسانی ہمدردی پر مبنی دیکھ بھال، سفری کارروائیوں اور ٹکٹوں کی بکنگ میں مدد، ذاتی نگہداشت اور حفظان صحت کی خدمات، آگاہی اور تفریحی پروگرامز، سفری دستاویزات کے حصول کے لیے سفارت خانوں کے ساتھ رابطہ کاری، قیمتی اشیا اور ذاتی سامان کی حفاظت، کھانے اور کیٹرنگ کی سہولیات، طبی معائنے اور صحت کی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

جی ڈی آر ایف اے کے اعداد و شمار  میں بتایا گیا کہ 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران سینٹر فار ہاربرنگ نے 11 ہزار 696 افراد کو رہائش فراہم کی، اسی عرصے میں طبی ٹیموں نے ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا اور ایک ہزار 906 خصوصی طبی معائنے اور علاج کے لیے دوروں کا انتظام کیا۔

اسی طرح 3 لاکھ 22 ہزار 232 افراد کو کھانا فراہم کیا گیا، قونصل خانوں کے ذریعے 4,568 سفری دستاویزات کی کارروائی مکمل کی گئی اور دبئی میں 11,696 سفری ٹکٹ جاری کیے تاکہ تارکین وطن مطلوبہ قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن واپسی کا سفر مکمل کر سکیں۔

غیرقانونی تارکین وطن کے لیے دبئی میں قائم التداوی میڈیکل سینٹر میں صحت کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں جہاں بچوں کے کھیلنے کی جگہ، بچوں کے امراض کا کمرہ، نرسنگ اسٹیشن، ڈینٹل کلینک، مشاورتی کمرہ، اہم طبی علامات چیک کرنے کا کمرہ، زچگی اور امراض نسواں کا مشاورتی کمرہ، ایکسرے روم، فزیوتھراپی روم، علاج کا کمرہ اور فارمیسی شامل ہیں۔

دبئی کے حکام نے اس کے علاوہ نئے آنے والے غیرقانونی تارکین وطن کے لیے استقبالیہ کا شعبہ، ہیئر ڈریسنگ سیلون، محفوظ الماریوں کی سہولیات اور ذاتی سامان رکھنے کے لیے لاکر رومز سمیت دیگر شعبے بھی قائم کردیے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل محمد احمد المری نے واضح کیا کہ مرکز میں موجود ہر فرد کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جاتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی قومیت یا پس منظر سے ہو، رہائش سے متعلق اسے جو بھی مسئلہ درپیش ہو، بلا شبہ ہم اس کے ساتھ ایک مہمان کی طرح سلوک کریں گے، ہمیں کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ بالآخر ہم سب انسان ہیں، ہم تمام قومیتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں اور سب برابر ہیں۔

جی ڈی آر ایف اے کے مطابق سینٹر فار ہاربرنگ محض ایک ایسی جگہ نہیں جہاں رہائشی معاملات کی کارروائیاں مکمل کی جاتی ہیں، بلکہ اسے ایک ایسے مقام کے طور پر قائم کیا گیا ہے جہاں لوگوں کو دیکھ بھال، ضروری خدمات تک رسائی اور عزت و وقار کے ساتھ اپنے وطن واپسی کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور متحدہ عرب امارات کے امیگریشن قوانین کا نفاذ انسانی ہمدردی کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

Load Next Story