عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں
حکومت معاشی استحکام کے دعوے کرتے نہیں تھکتی۔ وزرا قومی معیشت میں بہتری اور عوام کے بنیادی مسائل غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور پسماندگی دور کرنے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
بعینہ سیاسی، آئینی اصلاحات، عدلیہ اور اظہار رائے کی آزادی، انسانی حقوق کے احترام اور اپوزیشن سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے بھی حکومت اپنی اچھی کارکردگی نمایاں کرتے نظر آتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سب کچھ ایسا ہی ہے جیسا کہ حکومت دکھانے اور گڈ گورننس کے دعوے کرتی ہے؟ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی نفی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں نہ صرف اندرون ملک کے معاشی و سیاسی تجزیہ نگار اور صاحب رائے حلقے اور عوام الناس کی آہ و فغاں حکومتی کارکردگی کا پول کھول رہی ہے بلکہ بیرون وطن کے ادارے بھی حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ابھی چند روز قبل یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس ترجیحی تجارتی اسکیم پر جو جائزہ رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں سیاسی حقوق، عدلیہ کی آزادی، میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی اور سائبر کرائمز قوانین کے اطلاق سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی رپورٹ میں موجود ہے اور زور دے کر یہ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق اور قوانین کی منظوری کے ساتھ ان پر موثر عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ یکم جنوری 2027 سے یورپی یونین کے نئے جی ایس پی ضوابط نافذ ہوں گے جن میں پائیداری اور بہتر طرز حکمرانی کے مزید سخت تقاضے شامل ہوں گے۔
یورپی یونین کی مذکورہ رپورٹ اس امر کی عکاس ہے کہ شہباز حکومت کی مجموعی کارکردگی تسلی بخش نہیں اور بہت سے شعبوں میں خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے سنگین خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ آیندہ سال جنوری سے جی ایس پی پلس کے جو نئے قوانین و ضوابط نافذ ہونے والے ہیں وہ طرز حکمرانی کے حوالے سے مزید سخت ہوں گے جن کی پاسداری ہر صورت لازمی ہوگی ورنہ حکومتی کارکردگی کا گراف نیچے آ سکتا ہے۔
معروف ادارے آڈیٹر جنرل پاکستان کی جاری کردہ حالیہ رپورٹس میں بھی حکومت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کے حوالے سے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سنگین بے ضابطگیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژن اور متعلقہ محکموں میں اربوں روپے کی مالی بدعنوانیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔
حتیٰ کہ ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی اسکیموں کے لیے دیے گئے فنڈز میں بھی خورد برد پر سوالات اٹھائے گئے ہیں جن سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں مالی شفافیت کے لیے سخت اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے اور حکومتی اداروں میں احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت کی مجموعی کارکردگی ہرگز تسلی بخش نہیں ہے اور سرکاری اداروں میں کرپشن عروج پر ہے جس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس پہ مستزاد حکومت اور اس کے وزرا ’’گڈ گورننس‘‘ کے شادیانے بجاتے نہیں تھکتے۔
قومی معیشت کا یہ عالم ہے کہ آئی ایم ایف کی مالی مدد کے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہر سال اربوں روپے کے قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ اس وقت پاکستان پر مجموعی بیرونی قرضے 138 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ہر سال نئے قرضوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوست ممالک سعودی عرب اور چین کے اربوں ڈالر کے ’’سیف ڈپازٹس‘‘ کو رول اوور کے لیے منت سماجت کرنا پڑتی ہے، بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، سرمایہ دار پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
کیا ایسے مخدوش حالات میں معیشت کو مستحکم قرار دیا جا سکتا ہے؟ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر روز رد و بدل کے نئے نظام نے نہ صرف عام آدمی بلکہ تجارتی و صنعتی صارفین اور پٹرولیم کا کاروبار کرنے والے اداروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مہنگائی کا طوفان ہر روز بڑھتا جا رہا ہے، اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے جس سے عام آدمی کی مشکلات دوچند ہو گئی ہیں۔ اس کا ماہانہ بجٹ درہم برہم ہو گیا ہے، حکمران اپنی مراعات و سہولیات میں من مانا اضافہ کر رہے ہیں لیکن غریب و عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومتی ناقص پالیسیوں کے سبب ملک میں غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔