مڈل کلاس کا خاتمہ یا سرمایہ داریت کے خاتمے کا آغاز؟
کچھ دن پہلے لاہور کے ایک پرانے، نیم متوسط علاقے کی ایک گوشت مارکیٹ میں ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک صاحب، جو پچھلے پچیس سال سے ایک سرکاری محکمے میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز رہے اور اب ریٹائرڈ ہیں، دکان کے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑے تھے۔ ہمیشہ استری شدہ کلف لگی قمیض، چمکتا ہوا چمڑے کا جوتا اور آنکھوں پر سستا مگر صاف ستھرا چشمہ،وہ اس سفید پوش مڈل کلاس کی چلتی پھرتی تصویر تھے جو اپنی عزت نفس کو زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتی ہے۔ انھوں نے دکاندار سے بہت دھیمی، شرمسار سی آواز میں کہا ’’بھائی، آدھا کلو گوشت کے بجائے صرف ایک پاؤ ہڈیاں اور کچھ بوٹیاں الگ کر دو، ذرا شوربے میں ذائقہ لانا ہے، بچے ضد کر رہے تھے۔‘‘ دکان دار نے جب پاؤ بھر کا وہ شاپر ان کے ہاتھ میں تھمایا، تو صاحب نے جلدی سے اسے اپنے پرانے چمڑے کے تھیلے میں چھپا لیا، جیسے کوئی چور چوری کا مال چھپاتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں پھیلی وہ شرمندگی اور بے بسی کسی بھی حساس انسان کی روح کو پگھلانے کے لیے کافی تھی۔
یہ محض ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کی کہانی نہیں ہے، یہ اس مڈل کلاس کے رفتہ رفتہ دم توڑنے کا نوحہ ہے جو کبھی کسی بھی معاشرے کا فکری، تعلیمی اور اخلاقی ستون ہوا کرتی تھی، اگر ہم اس انسانی المیے کو عالمی پس منظر میں دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ صاحب کا یہ دکھ کوئی مقامی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے عالمی معاشی نظام کا شاخسانہ ہے۔نوآبادیاتی دور کے بعد کی دنیا نے جس سب سے بڑے معاشی مغالطے کو جنم دیا، وہ ’’مڈل کلاس‘‘ یا سفید پوش طبقے کا وجود تھا۔
بیسویں صدی کے وسط میں یہ تاثر ابھرا کہ سرمایہ داری نے ایک ایسا متوازن معاشرہ تخلیق کر لیا ہے جہاں امارت اور غربت کے مابین ایک مضبوط، مستحکم اور پڑھا لکھا طبقہ موجود ہے، جو سماجی استحکام کا ضامن ہے، لیکن اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے تک آتے آتے یہ خواب کرچی کرچی ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں مڈل کلاس تیزی سے غائب ہو رہی ہے، اور معاشرے دوبارہ دو واضح حصوںبے پناہ امیر اور انتہائی غریب میں تقسیم ہو رہے ہیں، یہ محض ایک معاشی اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ ایک گہرا ساختاتی بحران ہے۔
پیو ریسرچ سینٹرکی رپورٹس کے مطابق، امریکا جیسے ترقی یافتہ اور سرمایہ داری کے گڑھ میں 1971تک تقریباً 61 فیصد آبادی مڈل کلاس پر مشتمل تھی، جو اب سکڑ کر محض 50 فی صد رہ گئی ہے، یعنی وہ ملک جو مڈل کلاس کے خواب پر کھڑا تھا، وہاں بھی یہ طبقہ نیچے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔جرمنی کی مڈل کلاس 1991میں 70 فی صد سے سکڑ کر 64 فی صد رہ گئی ہے۔
اسی طرح او ای سی ڈی یعنی ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم نے اپنی تہلکہ خیز رپورٹ ’’انڈر پریشر: دی سکویزڈ مڈل کلاس ‘‘ میں واضح کیا ہے کہ اب ہر نئی نسل کے لیے مڈل کلاس کا طرزِ زندگی برقرار رکھنا ایک ناممکن خواب بنتا جا رہا ہے۔ ہاؤسنگ، اعلیٰ تعلیم اور صحت کی قیمتیں عام آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھی ہیں، جس نے سفید پوش طبقے کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔
اوکسفیم کی رپورٹس اس تصویر کو مزید بھیانک بناتی ہیں۔ ان کے مطابق، حالیہ سالوں میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی نئی دولت کا تقریباً دو تہائی حصہ صرف اوپر کے 1 فیصد امیر ترین افراد کی جیبوں میں گیا ہے، جب دولت کا یہ وحشیانہ ارتکاز ہوتا ہے، تو مڈل کلاس کا معاشی وجود خود بخود تحلیل ہو کر غریب طبقے میں ضم ہو جاتا ہے۔پاکستان میں یہ صورت حال ایک معاشی قیامت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں کا مڈل کلاس طبقہ، جو ملک کی فکری اور معاشی ترقی کا انجن تھا، اب تاریخ کے بدترین دباؤ کا شکار ہے۔
یہاںیہ اہم سوال کہ کیا مڈل کلاس کا یہ خاتمہ سرمایہ داری کے زوال کا نقطہ آغاز ہے؟معاشی فلسفے کا ایک نہایت نازک سوال ہے۔ بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ مڈل کلاس کے بغیر سرمایہ داری زندہ نہیں رہ سکتی، (اور ایک خاص نقطہ نظر کے حامی اس سطحی تجزیے سے سرمایہ داریت کے خاتمے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں)کیوں کہ یہ ہی طبقہ اس نظام کا سب سے بڑا کنزیومر (مصرف) ہے، اگر مارکیٹ سے خریدار ہی غائب ہو جائیں گے، تو فیکٹریوں کا مال کون خریدے گا اور منافع کیسے بنے گا؟
تاہم، گہرے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سرمایہ داری کا اختتام نہیں، بلکہ اس کا ایک خوفناک ترین نیا رخ ہے، جسے معاصر مفکرین ’’نو جاگیرداری‘‘ یا ’’ٹیکنو فیوڈل ازم‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔مثلا یانس واروفاکیس، آپیونان کے سابق وزیر ِ خزانہ اور عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات ہیں۔ انھوں نے اپنی حالیہ کتاب ’’وہاٹ کلڈ کپیٹل ازم:ٹیکنو فیوڈل ازم‘‘ میں یہ تہلکہ خیز بحث چھیڑی ہے کہ روایتی سرمایہ داری اب مر چکی ہے۔ ان کے مطابق، اب بڑی ٹیک کمپنیاں مارکیٹ میں مینوفیکچرنگ یا پیداوار سے ’’منافع‘‘ نہیں کماتیں، بلکہ ڈیجیٹل فضا (کلاؤڈ)کے مالکان کی حیثیت سے ’’لگان‘‘ یا بھتہ وصول کرتی ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے قرونِ وسطیٰ کے جاگیردار اپنی زمینوں سے لگان وصول کرتے تھے۔
جویل کوٹکن، آپ امریکی ماہر ِ عمرانیات اور نامور محقق ہیں۔ ان کی کتاب ’’دا کمنگ اوف نیو فیوڈل ازم:اے وارننگ ٹو دی گلوبل مڈل کلاس‘‘، مڈل کلاس کے زوال پر ایک جامع ترین دستاویزی انتباہ ہے۔ کوٹکن کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک نئی قسم کی سماجی طبقات بندی ہو رہی ہے جہاں سلیکان ویلی کی اولیگارکی (امیر ترین طبقہ) ’’نئے جاگیردار‘‘ہیں، علمی و فکری طبقہ ان کا پادری ہے، اور عام مڈل کلاس پستی ہوئی ’’مزارعین‘‘ کی رعایا بن چکی ہے۔
سیڈرک ڈیورن، معروف فرانسیسی ماہر ِ معاشیات اور سیاسی مفکر ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’ہاؤسیلیکون ویلی اَن لیشڈٹیکنو فیوڈل ازم ‘‘میں فنانشل اور ڈیجیٹل معیشت کا گہرا ساختاتی تجزیہ کیا ہے۔ ان کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ الگورتھم اور ڈیٹا کی اجارہ داری نے سرمائے کی آزادانہ حرکت کو قید کر دیا ہے۔ اب کمپنیاں جدت یا مقابلے کے بجائے لوگوں کو اپنے ڈیجیٹل نیٹ ورک کا محتاج بنا کر ان کا استحصال کرتی ہیں، جو کہ خالصتاً ایک نیا جاگیردارانہ نظام ہے۔
سرمایہ داری اپنے دفاع اور بقا کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ اپنے ہی پیدا کردہ بحرانوں کو اپنی غذا بنا لیتی ہے۔ مڈل کلاس کے خاتمے سے دنیا بھر میں جمہوریت کم زور ہو رہی ہے اور فاشزم، پاپولزم اور آمریت پسندانہ رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ اب سرمائے کو اپنے پھیلاؤ کے لیے ایک بڑی مڈل کلاس کنزیومر بیس کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ وہ ڈیجیٹل مونوپلیز (جیسے ایمیزون، گوگل اور بڑے مالیاتی ادارے) کے ذریعے اربوں انسانوں کو مستقل قرض اور بقا کی سسکتی ہوئی سطح پر رکھ کر بھی اپنا منافع کشید کر سکتا ہے۔
سرمایہ داری کا یہ مرحلہ اس کا اختتام نہیں بلکہ اس کا اپنے اصل، ننگے اور وحشیانہ روپ میں لوٹنا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسانی محنت، اخلاق اور انسانی وقار کی قیمت سرمائے کے ڈیجیٹل الگورتھم کے سامنے صفر ہو جاتی ہے۔