صدر اور عباس عراقچی سپریم لیڈر کی غیرموجودگی میں بغاوت کرنا چاہ رہے ہیں، ایرانی دائیں بازو تنظیم
ایران کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے امریکا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پے داری فرنٹ پارٹی جسے سپر انقلابی بھی کہا جاتا ہے خود کو 1979 کے انقلابی اقدار کی محافظ مانتی ہے اور اس کے متعدد ارکان قومی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔
پارٹی نے ایران کی قیادت پر مزید الزام عائد کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پیزشکیان، ایرانی اعلیٰ سفارت کار عباس عراقچی اور چیف مذاکرات کار محمد باقر غالب سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کی غیر موجودگی کو پارلیمنٹ اور اس کے نظریات کے خلاف بغاوت شروع کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے سے چند روز قبل پے داری فرنٹ پارٹی کے رکن محمود نباویان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں حکومت سے خون کے بدلے کا جھنڈا اٹھانے اور بغاوت کے خلاف ثابت قدم رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔