سعودی آئل تنصیبات پر ڈرون حملے، متحدہ عرب امارات کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے عراق کی سرزمین سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع تیل کی تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کے خلاف سنگین اقدام قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات ہر قسم کی دہشت گردانہ کارروائی اور اہم شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مخالفت کرتا ہے۔
بیان میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ امارات مملکت کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اس کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے گزشتہ روز اپنی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی اطلاع دی تھی۔ بعد ازاں سعودی عرب اور امریکا نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
عراقی نیم فوجی اتحاد پاپولر موبلائزیشن فورسز کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 20 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعات کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور مختلف علاقائی ممالک نے تحمل، سفارت کاری اور امن برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق تیل کی تنصیبات پر حملے اور اس کے بعد ہونے والی فوجی کارروائیاں مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔