تلخی یا سسٹم کا نقصان نہیں بلکہ آزاد کشمیر الیکشن کا اگلا مرحلہ شفاف چاہتے ہیں، رہنما پیپلزپارٹی

وفاقی حکومت اور مظفر آبادایک پیج پر ہوں گے تو ہی مسائل حل ہوں گے، ندیم افضل چن

کابینہ ڈویژن نے استعفیٰ کے منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ فوٹو، فائل

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر انتخابات کے اگلےمرحلے میں دھاندلی نہ ہو، ہم نہیں چاہتے کہ تلخی بڑھے اور سسٹم کو نقصان پہنچے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ ہم آزاد کشمیر میں صاف وشفاف انتخابات چاہتے تھے کیونکہ دنیا کی نظریں کشمیر انتخابات پر ہیں کہ یہاں الیکشن کیسے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں ،اچھا موقع تھا کہ الیکشن صاف اور شفاف کروائے جاتے تاکہ ایک اچھا پیغام دنیا کو جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ تلخی پیدا ہو اور نظام کو نقصان پہنچے، ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات کے اگلے مرحلے بہتر ہوں، آج جو اسمبلی میں قرارداد منظور ہوئی ہم اس کی تائید کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ چھوٹے موٹے اختلافات کو بیٹھ کر حل کریں۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ صرف آزاد کشمیر کی حکومت مسائل کو حل نہیں کر سکتی وفاقی حکومت اور مظفر آبادایک پیج پر ہوں گے تو مسائل حل ہوں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لااینڈ آرڈر ہو، الیکشن کے دن جو بھی اسلحہ اٹھائے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جو انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اس  سے سختی سے نمٹا جائے اور کسی کو کوئی رعائیت نہ دی جائے۔

بلاول بھٹو کے بیان سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پانچ دن سے کشمیر ہیں، اسی وجہ سے اسپیس ملی کہ لوگ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

Load Next Story