اردن کے عوام کا ملک سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ، سیکڑوں شخصیات کا حکومت کو کھلا خط
عمان: اردن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے حکومت کے نام ایک کھلے خط پر دستخط کرتے ہوئے ملک سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
دستخط کنندگان کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی اردن کی خودمختاری، سلامتی اور داخلی استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کھلا خط گزشتہ ہفتے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ اردن میں امریکی فوج کی مسلسل موجودگی ملک کو سکیورٹی، سیاسی اور معاشی مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے امریکی فوجی موجودگی پر نظرثانی کی جائے اور اس حوالے سے واضح پالیسی اختیار کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق اردنی حکومت کے ترجمان نے اس خط یا اس میں عائد کیے گئے الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
ادھر امریکی اخبار نے یہ بھی بتایا کہ پیر کے روز اردنی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس معاملے پر کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ اجلاس کے دوران رکنِ پارلیمنٹ علی الخلیلہ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر تعزیتی قرارداد پیش کرنے کی تجویز دی، جس پر دیگر ارکان نے سخت احتجاج کیا۔
رپورٹ کے مطابق بعض ارکان نے امریکی فوج پر خطے میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہلاکتوں کا الزام بھی عائد کیا، جس کے باعث پارلیمنٹ میں شدید بحث ہوئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کھلے خط پر دستخط کرنے والے افراد اردن کی مجموعی عوامی رائے کی کس حد تک نمائندگی کرتے ہیں، کیونکہ ملک میں عوامی رائے کے باقاعدہ اور آزادانہ سروے محدود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، امریکی فوجی موجودگی اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے باعث اردن میں بھی اس موضوع پر سیاسی اور عوامی بحث میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔