میر رضا علی قتل کیس میں پیشرفت، مقتول کا موبائل مل گیا، پولیس کی لاش پر تشدد اور جھلسنے کی تردید

میر علی کو ایک گولی سامنے سے سینے پر ماری گئی، پولیس کا پچاس فیصد کیس حل کرنے کا بھی دعویٰ

کراچی میں اغوا کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی، پولیس نے موبائل اور وقوعہ لاش سے اسلحہ کور برآمد کرلیا جبکہ لاش جھلسی ہوئی یا تشدد زدہ ہونے کی تردید کی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی نوجوان اور آئی بی اے کے طالب علم میر رضا علی کے قتل کی تفتیش کا عمل جاری ہے۔

مقتول نوجوان کی لاش بدھ کو گلستان جوہر بلاک ون میں پہاڑی کے مقام سے ملی تھی جو اپنی رہائش گاہ سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کے افسران اور کرائم سین یونٹ نے گزشتہ روز جائے وقوعہ سمیت ملحقہ مقامات کا دورہ کیا جہاں سے پولیس کو مقتول کا آئی فون مل گیا اس کے علاوہ پولیس کو جائے وقوعہ سے اسلحے کا کور (پاؤچ) بھی ملا ہے۔

پولیس مقتول کے موبائل نمبر کا سی ڈی آر حاصل کر کے پولیس اس کا روٹ میپ مرتب کر رہی ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ مقتول کو سینے پر لگنے والی گولی دوسری جانب سے پار ہوگئی تھی تاہم جسم پر تشدد یا جھلسانے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہے۔

مقتول نوجوان میر رضا علی کے قتل کی تفتیش کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والی ٹیم میں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ زیبر نواز شیخ ، ایس پی گلشن اقبال غلام شبیر سرکی ، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال سمیت دیگر تفتیشی و کرائم سین ماہرین بھی موجود تھے۔

تفتشی ٹیم اور کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ کے اطراف سرچنگ کر کے مزید شواہد حاصل کیے، تفتیشی ٹیم کو مقتول نوجوان کا آئی فون جائے وقوعہ سے تقریباً 200 میٹر دور نصیر ٹاور اپارٹمنٹ کے عقب سے مل گیا جس پر پاس وڈ لگا ہوا ہے۔

پولیس موبائل کھلوانے کی کوششیں کر رہی ہے جبکہ کال ڈیٹا ریکارڈ سے سامنے آنے والے 50 نمبروں کی چھان بین کررہی ہے۔

تفتیشی ٹیم نے کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کی مدد سے مقتول کا روٹ میٹ تیار کرنے کے بعد دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر کے باریک بینی سے تفتیش شروع کردی۔

تفتیشی حکام نے حاصل شدہ موبائل فون نمبروں سے 50 فیصد سے زائد کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران آن لائن ٹیکسی ڈرائیور، مقتول کے پارٹنر اور کیس سے جڑے دیگر افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پولیس نے مقتول کی منگیتر کو بھی بیان کے لیے طلب کیا ہے۔ کرائم سین یونٹ کو جائے وقوعہ پر سرچنگ کے دوران پستول کا کور (پاؤچ) بھی ملا ہے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر مقتول کے قتل میں استعمال کیے جانے والے اسلحے کا ہوسکتا ہے تاہم پولیس اس حوالے سے مزید جائزہ لے رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں کو بھی کاٹ کا مزید شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں ، تفتیشی ٹیم واردات میں استعمال کیے جانے والے اسلحے کو بھی سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔

دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نوجوان کی لاش نہ جلی ہوئی تھی اور نہ ہی اس کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، مقتول نوجوان کو سامنے سینے سے گولی لگی دوسری جانب عقب سے پار ہو گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کو ایک ہی گولی لگی جو اس کی موت کی وجہ بنی، نوجوان کی لاش ڈی کمپوز ہونا شروع ہو چکی تھی جبکہ مقتول نوجوان کے خون آلود کپڑوں سے خون کے نمونے حاصل کر کے کیمیکل کے لیے بھجوا دیئے گئے ہیںْ

واضح رہے کہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کا رہائشی نوجوان میر رضا علی آئی بی اے کا طالب علم اور گزشتہ 5 سال سے اپنا ذاتی کام کر رہا تھا جس کی بہادر آباد اور نارتھ ناظم آباد میں وافلکس کے نام سے آؤٹ لیٹس تھیں اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نئی جدت اور آئیڈیاز سے اپنے کاروبار کو تیزی سے فروغ دے رہا تھا۔

اس کے اس بہیمانہ قتل پر اہلخانہ کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے ان کا اکلوتا بیٹا اب تو اس دنیا میں نہیں رہا لیکن قاتلوں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے ۔

متعلقہ

Load Next Story