ایران کی فوجی صلاحیت تباہ کردی، مزید سخت حملے کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
فوٹو: رائٹرز
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ایران پر مزید سخت حملے کریں گے۔
کیمپ ڈیوڈ میں اپنی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایران کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے، ایران کے پاس فوجی صلاحیت باقی ہےلیکن وہ بھی جلد ختم ہو جائے گی۔
ایران کے خلاف امریکی فوج کی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
کابینہ خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شان دار کام کیا ہے، ہمیں 5 ماہ ہو چکے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ ویتنام میں 20 سال تک رہے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ کہہ رہا ہوں، ان کے پاس تھوڑی صلاحیت باقی ہے لیکن جلد ہی وہ بھی نہیں رہے گی، ہم ان پر سخت حملے کریں گے۔
جنگ بندی بحال ہونے کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں، ایران کے معاملے میں ہماری کارکردگی اچھی ہے، ایرانی فوج کمزور کر دی گئی ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید بڑی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان پر حملے کریں گے اور بہت سخت حملے کریں گے اور ایک وقت پر وہ کہیں گے کہ ہم اب مزید برداشت نہیں کر سکتے اور اگلے دو ہفتوں میں ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تجویز سے متعلق سوال پر اثبات میں جواب دیا۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم بڑی کارروائی کر رہے ہیں، ہم پہلے ہی بڑی کارروائی کر چکے ہیں، ایران کی فوج اور قیادت ختم ہو چکی ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے، وہ ہمیشہ بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا وعدہ توڑ دیتے ہیں، اس لیے میں ان پر اعتماد کھو رہا ہوں کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جو 5 میزائل داغے تھے ہم نے انہیں مار گرایا لیکن ہم اسی دوران مذاکرات کر رہے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں مسلح افواج میں استعداد بڑھانے کے لیے بجٹ میں غیرمعمولی اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ افواج میں 1.5 ٹریلین ڈالر کی غیر معمولی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔