براڈ پیک سانحہ: پاکستان نیپال کے غم میں برابر کا شریک ہے، رانا ثناء اللہ

قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک پر بین الاقوامی کوہ پیمائی مہم کے 10 ارکان برفانی تودے کی زد میں آ گئے تھے

وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثناء اللہ نے براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس سانحے پر نیپال کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک پر ایک بین الاقوامی کوہ پیمائی مہم کے 10 ارکان برفانی تودے کی زد میں آ گئے تھے۔ اس ٹیم میں 6 نیپالی جبکہ پاکستان، امریکا، چین اور عمان کے شہری بھی شامل تھے۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق حکومت پاکستان نے حادثے کے فوراً بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو اولین ترجیح دی۔ اب تک 4 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جن میں نیپالی کوہ پیما پور بہادر گورونگ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور متعلقہ ادارے ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور دیگر تمام دستیاب وسائل کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انتہائی خراب موسم اور دشوار گزار حالات کے باوجود لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش بلا تعطل جاری ہے جبکہ جی پی ایس ٹریکنگ، فضائی نگرانی اور زمینی سرچ کے ذریعے انہیں تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیپالی اور دیگر غیر ملکی کوہ پیما اپنی مہارت اور عالمی کوہ پیمائی میں خدمات کے باعث پاکستان میں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور پاکستان لاپتہ افراد کی تلاش مکمل ہونے تک ہر ممکن تعاون اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا۔

 

Load Next Story