کارکردگی کا آئینہ

کارکردگی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ حکومت نے قرضے کم کیے یا بڑھائے

حکومتوں کے درمیان اصل مقابلہ سیاسی نعروں، طنزیہ جملوں یا سوشل میڈیا کی سرخیوں کا نہیں ہوتا بلکہ عوامی خدمت، بہتر طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی نتائج کا ہوتا ہے۔ سیاست میں ایک بیان چند گھنٹوں یا چند دنوں تک توجہ ضرور حاصل کر سکتا ہے، مگر تاریخ ہمیشہ اْن فیصلوں کو یاد رکھتی ہے جن کے اثرات عوام کی زندگیوں میں برسوں تک محسوس کیے جائیں۔

حالیہ دنوں میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کی جانب سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایک طرف 10 ارب روپے کا طیارہ خریدا گیا، جب کہ دوسری جانب اسی مالیت سے ایک تھرمل پاور پلانٹ قائم کیا گیا۔

یہ بیان سیاسی بحث کا موضوع ضرور بنا، لیکن اس نے ایک بنیادی سوال بھی کھڑا کر دیا کہ کیا حکومتوں کی کارکردگی کا فیصلہ کسی ایک منصوبے یا ایک بیان سے کیا جا سکتا ہے؟ اگر واقعی تقابل کرنا مقصود ہو تو پھر انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کو دیکھا جائے، یعنی عوامی فلاح، مالی نظم و ضبط، زراعت، صحت، رہائش اور بنیادی ڈھانچے میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ قرضوں، مالی ترجیحات اور انتظامی فیصلوں کا بھی غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے۔

کسی بھی حکومت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے مخالفین کے بارے میں کیا کہتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے فیصلوں سے عام شہری کی زندگی میں کیا بہتری آئی، کسان کو کتنا ریلیف ملا، مریض کو کتنی سہولت ملی اور ریاستی وسائل کو کس حد تک عوامی مفاد میں استعمال کیا گیا۔

سب سے پہلے مالیاتی نظم و ضبط کی بات کرتے ہیں، کیونکہ کسی بھی حکومت کی سنجیدگی کا سب سے بڑا پیمانہ اس کے مالی فیصلے ہوتے ہیں۔ پاکستانی پنجاب کی حکومت نے تین دہائیوں سے زائد عرصے سے چلا آ رہا 675 ارب روپے کا بینکنگ قرضہ مکمل ادا کر دیا، جو گندم کی خریداری اور سبسڈی سے جڑا تھا، اور یومیہ 25 کروڑ روپے کے سود کا نقصان بھی ختم کر دیا۔

یہ وہ فیصلہ ہے جو کسی پریس کانفرنس کا محتاج نہیں، اپنی گواہی خود دیتا ہے۔حالیہ بجٹ میں بھی یہی نظم دکھائی دیتا ہے۔ کفایت شعاری کے ذریعے جاری اخراجات میں 3.1 فیصد کمی لائی گئی، پھر بھی ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف یقینی بنایا گیا۔

5,903.5 ارب روپے کا یہ بجٹ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے، مگر اس کے باوجود نئے ٹیکسوں سے گریز کی پالیسی برقرار رکھی گئی۔ جو حکومت شہریوں پر نیا بوجھ ڈالے بغیر ترقیاتی منصوبے مکمل کرے، اسے کس بنیاد پر مالی بدانتظامی کا طعنہ دیا جا سکتا ہے؟

دوسری جانب اگر آمدنی کے ذرائع کو دیکھا جائے تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی وصولیوں میں 55.4 فیصد جب کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی مد میں 77 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ صوبے کا نظامِ محصولات پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور شفاف ہو رہا ہے۔

کارکردگی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ حکومت نے قرضے کم کیے یا بڑھائے ، اور وسائل فلاحی منصوبوں کی طرف موڑے یا نمائشی اخراجات کی نذر ہوئے ۔ اسی پیمانے سے حقیقی موازنہ شروع ہوتا ہے۔اب اْن ٹھوس منصوبوں کی طرف آتے ہیں جو زمین پر موجود حقائق کے گواہ ہیں۔

زراعت میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت نے 15 ارب روپے کی لاگت سے 8000 کسانوں کے ٹیوب ویل سولر توانائی پر منتقل کیے، جب کہ ایک لاکھ گھرانوں کو 550 اور 1100 واٹ کے سولر سسٹم فراہم کیے گئے۔

کسان کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ چھوٹے کسانوں کو 350 ارب روپے کا بلا سود قرضہ دیا گیا، وہ قرضہ جو کاشتکار کو سود کے بغیر خود کفالت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اعداد نہیں، لاکھوں گھروں کی معاشی رگوں میں دوڑنے والا خون ہیں۔

صحت کے شعبے میں 5 لاکھ 50 ہزار مریضوں کو گھر بیٹھے مفت ادویات اور 15 ہزار بچوں کی مفت دل کی سرجری کی گئی، وہ سرجری جو کسی ماں کے لیے بجٹ لائن نہیں بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتی ہے۔

رہائش میں 1 لاکھ 70 ہزار غریب گھرانوں کے گھروں کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، جن میں سے 1 لاکھ 20 ہزار مکمل ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں 32 ہزار کلومیٹر سڑکیں، مریم کی دستک، پرواز کارڈ اور 200 سے زائد منصوبے وہ فہرست ہے جو کسی ایک تقریر میں نہیں سمائی جا سکتی۔

اب اْس دعوے کی طرف آتے ہیں جس نے یہ بحث چھیڑی، یعنی طیارے اور پاور پلانٹ کا موازنہ۔ اگر ہمت ہے تو موازنہ نعروں کا نہیں، قرضوں کا ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے 30 ماہ میں پنجاب کا 250 کروڑ ڈالر قرضہ کم کیا، جب کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اسی عرصے میں 1700 کروڑ ڈالر کا نیا قرضہ لے کر مجموعی قرضہ 5200 کروڑ ڈالر تک پہنچا دیا، جو پاکستان کے کل قومی قرضے کے 70 فیصد کے برابر ہے۔

یاد رہے، ہمارے پنجاب کی آبادی چار گنا زیادہ ہونے کے باوجود ہماری حکومت نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں قرضہ کم کیا جب کہ اْن کی حکومت نے اسے آسمان تک پہنچایا۔ اپوزیشن کے مطابق نئے قرضوں کا 86 فیصد صرف پرانے قرضوں کے سود میں جا رہا ہے، جس کے باعث شوگر ملوں اور پرنٹنگ پریس جیسی سرکاری زمینیں تک نیلام کرنا پڑ رہی ہیں۔ یہ کیسی معیشت ہے جہاں مستقبل کے وسائل ماضی کے قرضوں کی نذر ہو رہے ہوں؟

Load Next Story