’عینک والا جن‘ کے اینیمیٹڈ ورژن پر تنازع، رائٹر حفیظ طاہر کا سخت ردعمل

ڈرامے کے حقیقی مصنف نے کہا کہ وہ اینیمیٹڈ ورژن کے ناقص معیار کو دیکھ کر گہرے صدمے اور غصے میں ہیں


ویب ڈیسک August 02, 2026

پاکستان ٹیلی وژن کے مقبول ترین کلاسک ڈرامے ’عینک والا جن‘ کے اینیمیٹڈ ری بوٹ نے نشر ہونے سے پہلے ہی تنازع کھڑا کردیا ہے۔ ڈرامے کے خالق اور مصنف حفیظ طاہر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اصل تصور کو اجازت لیے بغیر استعمال کیا گیا، جس پر وہ شدید دل گرفتہ ہیں۔

حفیظ طاہر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’عینک والا جن‘ ایک ایسا ڈرامہ تھا جس نے پوری نسل کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ان کے مطابق اس دور میں وزیراعظم کے بچوں سے لے کر عام گھروں کے بچوں تک سب اس ڈرامے کے منتظر رہتے تھے اور اس کی ہر قسط بے حد مقبول ہوا کرتی تھی۔

حال ہی میں پی ٹی وی کی جانب سے ’عینک والا جن‘ کے اینیمیٹڈ ورژن کی جھلکیاں جاری کی گئیں، جن میں معروف کرداروں کو اینیمیشن کی شکل میں پیش کیا گیا۔ تاہم اس منصوبے پر حفیظ طاہر نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ری بوٹ ان کی اجازت کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔

مصنف کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید صدمہ پہنچا ہے کہ ان کے تخلیق کردہ تصور کو استعمال کیا گیا اور پھر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اسے نئی شکل دی گئی۔ انہوں نے اینیمیٹڈ ورژن کے معیار پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی ناقص کوالٹی دیکھ کر دل برداشتہ ہیں۔

حفیظ طاہر نے مزید کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس معاملے میں قانونی کارروائی کی جائے یا نہیں، کیونکہ ان کے بقول ان کی تخلیقی کاوش کو ان کی رضامندی کے بغیر استعمال کیا گیا ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

ادھر سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اداکار عمیر رانا نے حفیظ طاہر کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے کو قانونی فورم اور آرٹسٹس کلیکٹو ٹرسٹ (ACT) کے سامنے لے جائیں۔

متعدد صارفین نے بھی حفیظ طاہر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فکری ملکیت (Intellectual Property) کے حقوق کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، اس لیے اس معاملے پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ ان کے دادا اے حمید ’عینک والا جن‘ کے شریک تخلیق کار تھے، اس لیے اس منصوبے کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے بھی اصل تخلیق کاروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔