ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی
تہران: ایران نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق باخبر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی موجودہ پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض غیر ملکی اور ایران مخالف ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ایک منصوبے پر متفق ہو گیا ہے، تاہم ذمہ دار ذرائع نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
فارس نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم اور اسٹریٹجک بحری راستے کے حوالے سے ایران کا مؤقف پہلے جیسا برقرار ہے اور اس میں کسی نئی پیش رفت یا تبدیلی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ایران کی پالیسی کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تیل و گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔
سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی فیصلے یا بیان کے عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اسی لیے اس معاملے پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔