ایل اے 31 اور 40 میں پی پی کی شکایات بے بنیاد ہیں، ن لیگ کا الیکشن کمیشن کو خط
سیکریٹریٹ سمیت جگہ جگہ احتجاج کریں گے اور وزراء کو گھروں سے نکلنے نہیں گے، (ن) لیگ (فوٹو: فائل)
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے الیکشن سیل نے الیکش کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شکایت کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کی شکایت پر مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو جوابی خط بھیجا ہے اور کہا ہے کہ راجہ ثاقب مجید اور کارکنان نے ضابطۂ اخلاق کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا، ایل اے 31 میں پولنگ مجموعی طور پر پرامن، شفاف اور منظم رہی، پیپلز پارٹی کے الزامات منصفانہ انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش ہیں۔
ن لیگ کے الیکشن سیل نے کہا ہے کہ ہر شکایت کا فیصلہ صرف شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جائے، ثبوت کے بغیر کسی امیدوار یا کارکن کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، ایل اے 31 میں پولنگ کا پرامن اور شفاف انعقاد یقینی بنایا جائے، الیکشن کمیشن غیر جانبداری برقرار رکھے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنائے۔
مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اسی طرح ن لیگ کے الیکشن سیل نے ایل اے 40 ویلی ون بھی پی پی کی شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو جواب داخل کیا ہے اور کہا ہے کہ محمد نعیم خان، پولنگ ایجنٹس اور کارکنان نے ضابطۂ اخلاق کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا، انتظامی امور سے متعلق الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں، پولنگ اسٹیشنز کے انتظامی معاملات الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہیں، بغیر شواہد انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
الیکشن سیل مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ تمام شکایات کا فیصلہ صرف قابلِ تصدیق شواہد اور سرکاری رپورٹس کی بنیاد پر کیا جائے،
سیاسی بنیادوں پر دائر شکایات سے عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد مجروح نہ ہونے دیا جائے، ایل اے 40 (ویلی ون) میں پرامن، شفاف اور قانون کے مطابق پولنگ یقینی بنانے کی درخواست ہے، سلم لیگ (ن) آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کرتی ہے اور غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع رکھتی ہے۔