چیلنجز یا بیرونی عوامل پاک-ایران دیرینہ تعلقات کمزور نہیں کرسکتے، ایرانی سفیر
فوٹو: ایرانی میڈیا
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ چیلنجز اور بیرونی عوامل تہران اور اسلام آباد کے درمیان دیرینہ تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات خطے میں مخلصانہ تعاون اور باہمی احترام کی ایک مثال ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں امیری مقدم نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی دوستی اور برادرانہ تعلقات پورے خطے کے لیے باہمی احترام، حقیقی بردرانہ، اچھے ہمسائیگی کے تعلقات اور ‘ہم کر سکتے ہیں’ کے جذبے کی ایک قابل تقلید مثال بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد اور یک جہتی کا رشتہ کوہ دماوند اور کے-ٹو سے بھی بلند ہے، کے-ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بھی اپنے پہلے نوروز کے پیغام میں ایران اور پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تعاون پر زور دیا تھا۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں کوئی بھی چیلنج، پیش رفت یا بیرونی عنصر دونوں ممالک کے درمیان محبت، دوستی اور برادرانہ تعلقات کو کمزور یا متاثر نہیں کر سکتا۔
انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ سطح کے وفد کے تہران کے دورے اور اسلامی انقلاب کے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی الوداعی تقریب میں ان کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان یک جہتی اور باہمی احترام کی ایک مضبوط علامت تھا۔
ایرانی سفیر نے گزشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے متعدد اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے دو دورے، پاکستانی وزیراعظم کے تہران کے کئی دورے، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے متعدد دورے اور دیگر اعلیٰ حکام کی ملاقاتیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام تبادلے ہر سطح پر ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی، بھائی چارے، یک جہتی اور باہمی تعاون کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔
رضا امیری مقدم نے زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے تاریخی تعلقات وقت کی ہر آزمائش کا کامیابی سے مقابلہ کرچکے ہیں کیونکہ یہ صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، تہذیب، ایمان اور ثقافت پر استوار ہیں۔
ایرانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ خطے کے تمام مسلم اور ہمسایہ ممالک امن، استحکام، سلامتی اور بیرونی خطرات و تباہ کن جنگوں سے پاک ماحول میں مل کر کام کریں گے تاکہ اپنے عوام کے لیے ترقی، خوش حالی اور پائیدار فلاح و بہبود پر مبنی مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔