(جو )چاہتے ہیں سو آپ کریں!
tanveer.qaisar@express.com.pk
وزیر داخلہ ، جناب محسن نقوی، کی طاقت بے پناہ کہی اور تسلیم کی جا رہی ہے ۔ وہ جو چاہتے ہیں اور اُن کے دل میں جو آتا ہے، بے دھڑک کہہ دیتے ہیں۔ حساس سے حساس ترین معاملے پر بھی اُن کے بیان اور تبصرے پر ،قومی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں، اُن پر تنقید، تنقیص اور گرفت کرنے کی جرأت کم کم ہی کی جاتی ہے۔ جناب نقوی صاحب وزیر داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھPCBکے چیئرمین بھی ہیں۔
حالیہ (امریکہ، ایران تصادم کے ) ایام میں ہم سب نے دیکھا ہے کہ محسن نقوی صاحب کس مستعدی کے ساتھ ایرانی و امریکی قیادتوں سے مل کر امن معاملات کو آگے بڑھاتے رہے ہیں ۔گویااُنہوں نے وزارتِ خارجہ کے محاذ پر بھی شاندار قومی خدمات انجام دی ہیں اور پالیسی سازوں کے اعتماد اور اعتبار پر پورا اُترے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنما ، سینیٹر رانا ثناء اللہ، نے ایک بار اپنے بیان میں کہا تھا:’’ محسن نقوی صاحب چاہیں تو وہ وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں ۔یہ محسن نقوی صاحب کی مہربانی ہے کہ اُنہوں نے وزارتِ داخلہ پر اکتفا کیا۔‘‘معلوم نہیں یہ بیان اعترافِ حقیقت تھا یا کیا؟ مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ بیان محسن نقوی صاحب کی سیاسی طاقت کا مظہر ضرور ہے۔
اب اُن کے ایک تازہ بیان کی بازگشت چاروں اُور سنائی دے رہی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے 30جولائی2026ء کو اسلام آباد میں پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہُوئے جہاں دیگر بہت سی چشم کشا باتیں کہیں ، وہیں یہ بھی فرمایا:’’ پاکستان میں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے ۔ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں، وہ تباہ (Collapse) ہو چکا ہے۔نئے انتظامی یونٹ یا نئے صوبے ہی اِس مسئلے کا حل ہیں ۔موجودہ نظام گر چکا ہے ۔‘‘ اِس بیان نے ہر طرف ہلچل مچا رکھی ہے ۔
تبصروں اور قیافوں کی بھرمار ہے ۔ وزیر اعظم صاحب فی الحال خاموش ہیں اور نون لیگ کے مرکزی صدر جناب نواز شریف بھی ۔ شاعر کہتا ہے:ہائے محبت کی مجبوری/ رونا بھی آسان نہیں ہے! کئی وفاقی وزرا نقوی صاحب کے حق میں بھی بولے ہیں اور مخالفت میں بھی۔ یہ بات مگر یاد رکھنے والی ہے کہ اِس بیان سے قبل محسن نقوی صاحب بطورِ خاص صدرِ مملکت سے بھی ملے تھے اور وزیر اعظم صاحب سے بھی ۔ قیافہ شناسوں نے اِن ملاقاتوں سے یہ معنی اخذ کیے کہ یہ ’’ دھماکہ خیز‘‘ بیان دینے سے قبل وزیر داخلہ صاحب نے اپنی اعلیٰ ترین قیادت سے ، اِس ضمن میں ، کچھ نہ کچھ مشورہ تو ضرور کیا ہوگا ۔محسن نقوی صاحب کے مذکورہ بالا بیان کے بعد ملک بھر میں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے گرم مباحث شروع ہو چکے ہیں ۔ نجی ٹی وی ہوں یا اخبارات ، ہر جگہ پر نئے صوبوں کے حوالے سے نئے نئے پہلو سامنے لانے کی کوششیں بروئے کار ہیں۔
کچھ کنفیوژن بھی پھیلائی جارہی ہے۔ نقوی صاحب دی گریٹ کے مذکورہ بالا بیان کے دوسرے روز افواجِ پاکستان کے ترجمان ، ڈی جی آئی ایس پی آر، نے ایک مفصل پریس بریفنگ سے بھی خطاب کیا۔اِس بریفنگ میں جہاں متعدد اور متنوع موضوعات زیر بحث آئے ، وہیں ملک میں نئے مجوزہ صوبے بنانے کی بات بھی چھڑی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب،نے اِسی ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پہلے فرمایا:’’(نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹوں بارے)محسن نقوی نے جو بیان دیا ہے ، وہ اُن کی ذاتی رائے ہے۔ مَیں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔نئے صوبوں کا فیصلہ ہمیں نہیں ، عوام کو کرنا ہے ۔‘‘مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا: ’’ 1972ء میں پاکستان کی آبادی تقریباً سات آٹھ کروڑ تھی اور اب آبادی4گنا بڑھ چکی ہے۔ صوبے وہی ہیں جو پہلے تھے ۔ سوچنا پڑے گا (کہ آبادی کے پھیلاؤ کے سبب پیدا ہونے والے مہیب مسائل کا حل کیا ہے ) پاکستان کی سیکورٹی کے لیے گڈ گورننس بہت ضروری ہے۔‘‘ اگر گستاخی نہ سمجھی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اِن الفاظ میں بھی ، بین السطور، محسن نقوی کے محولا بالا بیان کی نفی نہیں کی گئی ہے ۔
مذکورہ بالا دونوں بیانات کی مُو شگافیاں کی جا رہی ہیں ۔ آئین کی کتاب کھول کر حوالہ جات تلاش کیے جارہے ہیں کہ آیا درپیش حالات میں وطنِ عزیز کے چاروں صوبوں کو تقسیم کرکے کئی نئے صوبے بنانے ممکن بھی ہیں یا نہیں؟ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ملک کے دوصوبوں میں امنِ عامہ کی جو صورت جاری ہے، کیا ایسے دگرگوں حالات میں نئے انتظامی یونٹس کی بنیاد رکھنے کا رسک لیا جا سکتا ہے؟بعض وفاقی وزرا کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے بھی محسن نقوی صاحب کی نئے انتظامی یونٹس بارے تجویز کی مخالفت کی ہے ۔ وفاقی وزیر ، احسن اقبال، نے تجویز سے اتفاق تو کیا ہے ، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’’ نظام ڈھے چکا ہے ، والے بیان سے مَیں متفق نہیں ہُوں۔‘‘ وزیر اعظم کے سیاسی مشیر ، سینیٹر رانا ثناء اللہ ، نے تو برملا کہا ہے :’’ صدر آصف زرداری کے ایک برخوردار کو آج پتہ چلا ہے کہ موجودہ سسٹم بیٹھ چکا ہے؟
اِسی سسٹم میں آپ نے 30سال کا سفر ساڑھے تین سال میں طے کیا ہے اور اب پتہ چلا ہے کہ یہ آگے چلنے کے قابل نہیں ہے ؟۔‘‘ رانا صاحب موصوف کا یہ لہجہ ناراضی کا مظہر ہے ۔ علیم خان اور مصطفیٰ کمال ایسے وفاقی وزرا نے غیر مبہم الفاظ میں نئے صوبوں کی حمائت کی ہے ۔ وزیر دفاع نے اپنے ساتھی وزیر (علیم خان) کو طعنے مہنے مارے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مگر کہا ہے :’’ محسن نقوی کی تجویز گھسی پٹی ہے۔ قبول نہیں ہے ۔ بات آگے نہ ہی بڑھائیں تو اچھا ہے ۔‘‘پی ٹی آئی کے چیئرمین ، بیرسٹر گوہر، نے نئے مجوزہ انتظامی یونٹس کا سارا ملبہ پی پی پی اور نون لیگ پر گرا دیا ہے ۔اپنی کوئی مرضی ، کوئی منشا اور کوئی ذاتی رائے دینے سے گریز ہی کیا ہے ۔
وطنِ عزیز میں آئے روز نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں۔بانی ِ پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ نے ارشاد فرمایا تھا:’’ پاکستان ہماری تجربہ گاہ ہوگی۔۔۔۔‘‘ قائد اعظم محمد علی جناح کی دیگر شاندار باتوں پر تو ہمارے حکمران عمل نہیں کر سکے، مگر یہ حکمران آئے روز پاکستان میں نت نئے تجربات ضرور کرتے نظر آ رہے ہیں ۔ کبھی پارلیمانی نظام کا تجربہ ، کبھی صدارتی نظام کا غلغلہ، کبھی نفاذِ نظام اسلام کا ذکر، کبھی جمہوری نظام کے لیے ووٹنگ ، کبھی کسی ڈکٹیٹر کے مفادات کے لیے ریفرنڈم! قائد اعظم کے عظیم ارشادات میں ایک ارشادِ گرامی یہ بھی ہے: ’’ مملکتِ خداداد ، پاکستان، میں غیر جمہوری قوتوں و غیر منتخب حکمرانوں کی کوئی جگہ اور گنجائش نہیں ہوگی۔‘‘ مگر ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پچھلے78برسوں کے دوران کتنی بار پاکستان کا آئین توڑا گیا اور کتنی بے رحمی سے قائد اعظم کے پاکستان میں مارشل لاز لگائے گئے !ووٹ کی طاقت سے معرضِ عمل میں آنے والے پاکستان میں ووٹ کی کتنی تحریم و تقدیس رہ گئی ہے؟ نئے صوبوں کی تجویز جہاں سے آ رہی ہے اور جو اِسے ملفوف انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں، وہ اتنے بھی خفی نہیں ہیں ۔ نئے صوبوں کی تشکیل و تخلیق بارے ہونا وہی ہے جو طاقتور ڈیزائن کیے بیٹھے ہیں ۔
ہم عوام کی رائے کوئی معنیٰ نہیں رکھتی ۔ ملک میں چار بار آمرانہ حکومتیں مسلّط کی گئیں ، تو کیا یہ عوام سے پوچھ کر فیصلے کیے گئے تھے؟ جنرل ضیاء الحق نے نام نہاد جہادِ افغانستان کی دہکتی بھٹی میں پورے پاکستان کو جھونک دیا تو کیا یہ عوام سے پوچھ کر قدم اُٹھایا گیا تھا؟ اب بھی نئے صوبوں بارے جو فیصلہ ہو چکا ہے، بالاآخر وہی عمل پذیر ہوگا ۔ یہ محض دل پشوری کے لیے کہا جارہا ہے کہ ’’یہ تجویز عوام کے سامنے رکھی جائے ۔ اگر وہ منظور کرلیں تو نئے صوبے ضرور بنا لینے چاہئیں۔‘‘ عوام بیچاروں کا تو بس نام ہی ہے ۔ میر تقی میر ڈھائی سو برس قبل ہم مجبور عوام کی نمائندگی کرتے ہُوئے کہہ گئے ہیں:’’ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی/ چاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیا‘‘۔ اہم فیصلوں میں بھلا عوام کی مختاری کون مانتا ہے؟ اِسی لیے تو تیسری دُنیا میں عوام کو’’لانعام‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ زمینی حقیقت ، بہرحال، یہ ہے کہ محسن نقوی صاحب کے مجوزہ بیان کو سرے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔