آبنائے ہرمز میں فضائی تصادم؟ پاسداران انقلاب نے امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کر دیا
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو اپنے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کہا ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے ڈرون کا بروقت سراغ لگایا اور اسے فائرنگ کر کے روک دیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی ایران کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں کا حصہ تھی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون مکمل طور پر تباہ ہوا، گر کر تباہ ہوا یا صرف نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس واقعے کی مزید تکنیکی تفصیلات یا تصاویر جاری نہیں کی گئیں جبکہ امریکی فوج یا امریکی سینٹرل کمان نے بھی اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق MQ-9 Reaper ایک جدید بغیر پائلٹ کا امریکی ڈرون ہے جو نگرانی، جاسوسی اور بعض صورتوں میں حملہ آور مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انهدام پهپاد MQ9 بر فراز تنگه هرمز
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) August 3, 2026
یک فروند پهپاد MQ9 توسط آتش سامانه نوین پدافند پیشرفته نیروی هوافضای سپاه بر فراز آسمان تنگه هرمز رهگیری و مورد اصابت قرار گرفت. pic.twitter.com/3lTQJbpkDg
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں حالیہ ہفتوں کے دوران فوجی سرگرمیوں اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس وجہ سے اس علاقے میں پیش آنے والے ہر واقعے پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
فارس کی اس رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس بارے میں تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔