مودی سرکار کا اقلیتوں پر ایک اور وار؛ توہینِ وندے ماترم کا بل منظور، 3 سال قید
بھارتی پارلیمنٹ نے ایک ایسا ترمیمی بل منظور کرلیا جس کے تحت قومی نغمے ’وندے ماترم‘ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو پہلے سے قومی ترانے ’جن گن من‘، قومی پرچم اور آئین کو حاصل ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بل وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ جسے مودی سرکار نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد یہ بل اب صدرِ جمہوریہ کی منظوری کا منتظر ہے۔ صدر کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا اور اس کی دفعات ملک بھر میں نافذ العمل ہوں گی۔
وزیر داخلہ کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد کسی مذہب، فرد یا نظریے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قومی نغمے کے وقار اور قومی یکجہتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
مودی سرکار کا کہنا ہے کہ ’وندے ماترم‘ بھارت کی آزادی کی تحریک کی ایک اہم علامت رہا ہے اس لیے اسے بھی قومی ترانے کے مساوی قانونی تحفظ دیا جانا چاہیے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بل کو مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وندے ماترم‘ کے بعض حصوں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر موجود ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس لیے حکومت اس قانون کے ذریعے اقلیتوں پر ایک مخصوص مذہبی تصور مسلط کرنا چاہتی ہے۔ یہ قانون بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی سمت ایک اور قدم ہے۔
کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بھارت کے سیکولر آئینی ڈھانچے اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ دستور ساز اسمبلی نے ’وندے ماترم‘ کے صرف ابتدائی دو بندوں کو قومی نغمے کی حیثیت دی تھی، اس لیے اس حوالے سے نئی قانونی پابندیاں غیر ضروری ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی یا نظریاتی تصور کو تمام شہریوں پر نافذ کرنا بھارتی آئین کی بنیادی روح کے منافی ہے۔ بورڈ نے حکومت سے اس قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
قانون میں کیا تبدیلی کی گئی؟
یہ ترمیم پریوینشن آف انسَلٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ 1971 میں کی گئی۔ پہلے یہ قانون صرف قومی ترانے، قومی پرچم اور آئین کی توہین یا قومی ترانے کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے پر لاگو ہوتا تھا لیکن اب اس کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے قومی نغمہ ’وندے ماترم‘ کو بھی شامل کر دیا گیا۔
اس کے تحت جان بوجھ کر ’وندے ماترم‘ کی توہین یا اس کی ادائیگی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے پر تین سال تک قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکیں گی۔