نوجوان تحریکوں کا علمیاتی محاکمہ

مسئلہ یہ نہیں اٹھایا گیا کہ دولت، طاقت اور وسائل کی موجودہ تقسیم کی بنیاد کیا ہے

ہر عہد اپنے نوجوانوں سے ایک سوال پوچھتا ہے۔سوال کبھی آزادی کا ہوتا ہے، کبھی روٹی کا، کبھی شناخت کا اور کبھی اقتدار کا۔ لیکن ہمارے زمانے کا سب سے نازک سوال شاید یہ ہے کہ نوجوان کس نظام کے خلاف بغاوت کر رہا ہے اور کس نظام کے حق میں؟ اگر وہ پہلے سوال کا جواب جانتا ہو مگر دوسرے کا نہیں، تو اس کی بغاوت بھی بالآخر اسی نظام کی عمر بڑھانے لگتی ہے جسے وہ گرانا چاہتا تھا۔

اسی تناظر میں امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگلمین نے حال ہی میں ایک اہم سوال اٹھایا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی قیادت میں وہ ہمہ گیر تحریک کیوں پیدا نہیں ہو رہی، جو گزشتہ چند برسوں میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب بھارت میں دکھائی دی؟

ان کے نزدیک اس کی وجوہ سیاسی جبر، طلبہ یونینز پر پابندی اور کمزور تنظیمی ڈھانچہ ہیں۔ یہ اسباب اپنی جگہ قابل توجہ ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصل مسئلہ ہے یا یہ صرف اس بحران کی ظاہری علامات ہیں؟

مغربی لبرل تجزیے کی بنیادی کمزوری یہی ہے کہ وہ نظام کو نہیں، اس کے اندر پیدا ہونے والے عوارض کو موضوع بناتا ہے۔ گویا سرمایہ داری پہلے سے ایک مسلمہ، فطری اور ناگزیر حقیقت ہے، لہٰذا ہر بحران کا علاج بھی اسی کے اندر تلاش کیا جائے گا۔

حکومتیں بدل جائیں، چند قوانین تبدیل ہو جائیں، نئے سیاسی چہرے سامنے آ جائیں، مگر اس معاشی و تہذیبی ڈھانچے پر سوال نہیں اٹھایا جائے گا جس نے یہ تمام بحران پیدا کیے ہیں۔

حالانکہ تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے۔ سرمایہ داری نے ہمیشہ اپنے خلاف اٹھنے والی مزاحمت کو اصلاحات کے ذریعے اپنے اندر جذب کر لیا۔ عوام سڑکوں پر نکلے، حکمران بدلے، وعدے ہوئے، چند مراعات تقسیم ہوئیں اور پھر وہی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آگیا۔ احتجاج نے انقلاب کا روپ اختیار کرنے کے بجائے سرمایہ داری کی تجدیدِ جواز کا ذریعہ بننا شروع کر دیا۔

اسی لیے سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال یا بھارت کی حالیہ نوجوان تحریکوں کو محض عوامی بیداری کہنا کافی نہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ اسی نظام میں زیادہ منصفانہ حصہ حاصل کرنا تھا۔

مسئلہ یہ نہیں اٹھایا گیا کہ دولت، طاقت اور وسائل کی موجودہ تقسیم کی بنیاد کیا ہے، صرف یہ کہا گیا کہ اس تقسیم میں ہمارا حصہ کم ہے، یوں مزاحمت بھی اسی تصورِ حیات کے اندر محدود رہی جس کے خلاف بظاہر احتجاج کیا جا رہا تھا۔

 سرمایہ داری کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ وہ اپنی پیدا کردہ ناہمواری کو حادثہ ثابت کرتی ہے، حالانکہ وہ اس کی ساخت کا لازمی نتیجہ ہے۔ آکسفیم اور ورلڈ اِن ایکوالٹی رپورٹ کے مطابق دنیا کا امیر ترین ایک فیصد طبقہ عالمی دولت کے تقریباً نصف پر قابض ہے، جب کہ نچلے پچاس فیصد انسانوں کے حصے میں صرف دو فیصد دولت آتی ہے، اگر یہی رجحان دہائیوں سے برقرار ہے تو اسے نظام کی خرابی نہیں بلکہ اس کا مقصد سمجھنا چاہیے۔

 تھامس پکیٹی نے اپنی معروف تحقیق میں واضح کیا کہ سرمایہ پر منافع کی رفتار معاشی نمو سے زیادہ رہتی ہے، اس لیے دولت مسلسل دولت کو جنم دیتی ہے جب کہ محنت پیچھے رہ جاتی ہے۔

کارل پولانی نے اس سے بھی بنیادی حقیقت بیان کی کہ سرمایہ داری نے پہلی مرتبہ انسان، زمین اور معاشرتی تعلقات کو منڈی میں فروخت ہونے والی اشیا میں تبدیل کر دیا۔ ڈیوڈ گریبر اور جوزف اسٹگلٹز نے قرض پر قائم عالمی معیشت کی کمزور بنیادوں کی نشاندہی کی، جب کہ جیسن ہیکل نے دکھایا کہ محدود وسائل رکھنے والی دنیا میں لامحدود معاشی بڑھوتری کا مطالبہ خود ایک عقلی تضاد ہے۔

گویا معاشی بحران، ماحولیاتی تباہی اور اخلاقی زوال الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی تہذیبی منطق کے مختلف مظاہر ہیں۔

 اسی لیے آج کے نوجوان کو صرف ریاستی جبر کا شکار سمجھنا حقیقت کا ادھورا بیان ہے، وہ خود بھی اسی سرمایہ دارانہ تہذیب کی پیداوار ہے۔ اس کے خواب کیا ہیں؟

بہتر تنخواہ، تیز تر ترقی، بیرون ملک ہجرت، صارفانہ آسائش، ڈیجیٹل شہرت اور زیادہ انفرادی آزادی۔ ان خواہشات میں سے ہر ایک اپنی ذات میں لازماً باطل نہیں، لیکن جب پورا تصورِ کامیابی انھی کے گرد تشکیل پا جائے تو انسان نظام کو بدلنے کے بجائے اس میں اپنا مقام بہتر بنانے کی جدوجہد کرتا ہے۔

 یہیں اس عہد کا سب سے گہرا تضاد جنم لیتا ہے۔ نوجوان سرمایہ داری سے اس لیے ناراض نہیں کہ اس نے انسان کو منڈی کا تابع بنا دیا ہے؛ وہ اس لیے ناراض ہے کہ اسی سرمایہ داری نے اسے کامیابی کا خواب دکھایا مگر اس خواب تک رسائی سب کے لیے ممکن نہیں رکھی۔

وہ اشرافیہ کی مراعات پر تنقید کرتا ہے مگر انھی مراعات کا خواہش مند بھی ہوتا ہے، وہ بدعنوانی کے خلاف نعرہ لگاتا ہے مگر سرمایہ کی لامحدود بڑھوتری پر سوال نہیں اٹھاتا۔ وہ عدم مساوات پر غصہ کرتا ہے مگر صارفانہ تہذیب اور مسابقتی انفرادیت کو چیلنج نہیں کرتا۔ چنانچہ اس کی مزاحمت اکثر انقلاب نہیں بنتی بلکہ اسی نظام میں شمولیت کا مطالبہ بن کر رہ جاتی ہے۔

 بھارت کی حالیہ نوجوان تحریک ایک اور اعتبار سے بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس نے ڈیجیٹل علامت کو زمینی تنظیم میں بدلنے کی کوشش کی۔ مجازی شناخت حقیقی اجتماع میں تبدیل ہوئی، اجتماع نے قیادت پیدا کی اور قیادت نے مسلسل دباؤ قائم رکھا۔

پاکستان میں صورتِ حال مختلف ہے۔ یہاں سوشل میڈیا اکثر غصے کو اظہار دے دیتا ہے، مگر اسی اظہار کو عمل کا متبادل بھی بنا دیتا ہے۔ ہیش ٹیگ، مختصر ویڈیو اور تبصرہ نوجوان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس نے اپنا سیاسی فرض ادا کر دیا، حالانکہ اس نے نہ کوئی مستقل تنظیم بنائی، نہ اجتماعی نظم پیدا کیا اور نہ کوئی دیرپا قربانی دی۔ اس طرح مجازی اجتماعیت، حقیقی اجتماعی قوت میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی تحلیل ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں حقیقی نوجوان تحریک اسی وقت جنم لے گی جب نوجوان اپنی محرومی کو صرف ’’میرے حصے کی کمی‘‘ نہیں بلکہ ایک باطل تصور انسان، ایک غیر عادلانہ معاشی نظام اور ایک فاسد تہذیبی ڈھانچے کا منطقی نتیجہ سمجھے گا۔

اس کی جدوجہد اقتدار کی منتقلی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ انسان، معیشت، سیاست اور معاشرت کی ازسرِنو تعمیر کی جدوجہد بنے گی، ایسی تعمیر جس میں انسان خودمختار صارف نہیں بلکہ اللہ کا بندہ ہو، معیشت سرمایہ کی بے مہار بڑھوتری کے بجائے عدل اور فلاح کی خادم ہو اور سیاست خواہشات کی تجارت نہیں بلکہ معروف کے قیام اور منکر کے سدباب کا ذریعہ بنے۔

مائیکل کوگلمین کے سوال کا مختصر جواب یہی ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کے اندر غصہ موجود ہے، لیکن وہ ابھی تک کسی مشترک اخلاقی شعور، منظم اجتماعی قوت اور قابل اعتماد تہذیبی متبادل میں ڈھل نہیں سکا۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی بغاوت آج بھی اسی نظام کی زبان بولتی ہے، اسی کے خواب دیکھتی ہے اور اسی کے معیارِ کامیابی کو سچ مانتی ہے جس کے خلاف وہ احتجاج کرتی ہے۔

تاریخ کا سب سے بڑا فریب یہ نہیں کہ انسان غلام ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلامی کو ہی آزادی، اپنی اسارت کو ہی ترقی اور اپنے زنجیروں کو ہی تبدیلی سمجھنے لگے۔

Load Next Story