آٹو پالیسی میں تاخیر کیوں؟

امیروں کو کیوں سبسڈی دی جائے، ان سے مکمل ٹیکس لینا چاہیے

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گاڑیاں بنتی ہیں۔ زیادہ تر ممالک گاڑیاں درآمد کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو ممالک خود گاڑیاں بناتے ہیں وہاں گاڑیاں درآمد کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

وہاں کی حکومتیں ایسی پالیسیاں بناتی ہیں کہ اپنے ملک میں بنائی گئی گاڑیوں کی فروخت کو آسان بنایا جائے۔ لیکن پاکستان جہاں گاڑیاں بنتی ہیں وہاں ماضی میں ایسی پالیسیاں بھی بنتی رہی ہیں جن کے تحت گاڑیوں کی درآمد کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ بالخصوص پرانی گاڑیوں کی درآمد پالیسی نے ملک میں بننے والی نئی گاڑیوں کی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے۔ اس لیے ہماری بہت ساری معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف کے تحت ہیں۔ ٹیکس اور سبسڈی کے معاملات کافی حد تک آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہیں۔ ہمیں ٹیکس لگانے اور ٹیکس ختم کرنے کے لیے بھی آئی ایم ایف کی منظوری چاہیے ہوتی ہے۔ اسی طرح سبسڈی کے معاملات بھی آئی ایم ایف کی منظوری کے ماتحت ہیں۔

اس ضمن میں اگر گاڑیوں کی صنعت کو ہی دیکھ لیا جائے تو چھوٹی گاڑیاں جنھیں مڈل کلاس کی گاڑیاں کہا جاتا ہے ان پر اس وقت آئی ایم ایف نے فل ٹیکس لگوایا ہوا ہے۔ چھوٹی گاڑیوں کی فروخت پر کسی بھی قسم کی سبسڈی اور ٹیکس ریلیف دینے کی اجازت نہیں ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو پابند کیا ہوا ہے کہ چھوٹی گاڑیوں پر کسی بھی قسم کی ٹیکس چھوٹ نہ دی جائے۔ اس لیے پاکستان میں چھوٹی گاڑیاں کافی مہنگی بھی ہیں اور مڈل کلاس کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ جب کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں چھوٹی گاڑیوں پر نہ صرف ٹیکس کی چھوٹ دی جاتی ہے بلکہ حکومت بھی سبسڈی دیتی ہے تا کہ مڈل کلاس کے لیے گاڑیاں رکھنا آسان بنایا جا سکے۔

اس وقت ایک اور کھیل شروع ہو گیا ہے۔ حکومت الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو ٹیکس چھوٹ اور سبسڈی بھی دے رہی ہے۔ متبادل توانائی کو فروغ دینے کے مشن میں ان گاڑیوں کو سبسڈی دی جا رہی ہے تا کہ لوگ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف راغب ہوں۔

بظاہر دیکھنے میں یہ ایک اچھی پالیسی لگتی ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ الیکٹرک گاڑیا ں بڑی گاڑیاں ہیں، ان کی قیمت ایک کروڑ سے زائد ہے۔ یہ امیر لوگوں کی گاڑیاں ہیں۔ یقیناً ان میں سے کوئی گاڑی بھی سستی نہیں ہے۔

لیکن عجب بات ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف چھوٹی اور مڈل کلاس کی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ اور سبسڈی دینے سے منع کرتا ہے۔ دوسری طرف مہنگی اور امیروں کی گاڑیوں کو سبسڈی دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ۔

کیا اس طرح ہم آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کے ڈالر امیروں کو سبسڈی میں نہیں دے رہے۔ میں تو ویسے بھی سمجھتا ہوں کہ بڑی گاڑیاں چاہے الیکٹرک ہائبرڈ اور کچھ بھی ہوں۔ ان پر کسی بھی قسم کی کوئی سبسڈی نہیں ہونی چاہیے۔

امیروں کو کیوں سبسڈی دی جائے، ان سے مکمل ٹیکس لینا چاہیے۔ میں تو سمجھتا ہوں بڑی گاڑیوں کو پٹرول بھی مہنگا دینا چاہیے۔ چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کو پٹرول بھی سستا دینا چاہیے۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں آئی ایم ایف امیروں کو سبسڈی دینے کا کہتا ہے اور مڈل کلاس سے پورا ٹیکس لینے کا کہتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی قومی آٹو پالیسی 30جون2026کو ختم ہو گئی تھی۔ موجودہ حکومت ایک ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود نئی آٹو پالیسی نہیں دے سکی ہے۔ حالانکہ آٹو کی صنعت ایک اہم صنعت ہے۔

اس سے لوگوں کا روزگار منسلک ہے۔ اس صنعت میں بڑی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ اب تو چائنہ کی گاڑیوں نے آکر اس صنعت کو مزید چار چاند لگا دئے ہیں۔ لیکن اس وقت ملک میں کسی بھی قسم کی آٹو پالیسی کا کوئی وجود نہیں۔

جس کی وجہ سے ملک میں آٹو صنعت جمود کا شکار ہے۔ سرمایہ کار پریشان ہیں کہ پتہ نہیں کیا پالیسی آئے گی۔ اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ سب کچھ رک گیا ہے۔ سب نئی آٹو پالیسی کے انتظار میں ہیں۔

جون میں آٹو پالیسی ختم ہوئی تو جولائی میں کئی کمپنیوں نے گاڑیوں کی فروخت ہی نہیں کی۔ انھوں نے انوائس ہی نہیں کی۔ کیونکہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ نئی آٹو پالیسی میں ٹیکس کی شرح کیا ہوگی۔ کس گاڑی پر کیا ٹیکس ہوگا۔

آٹو مینو فیکچر کو سمجھ نہیں آرہا کہ ایچ ای وی اور پی ایچ ای وی کی ٹیکس کی شرح پچیس فیصد ہوگی یا کم ہوگی۔ اس ضمن میں بیک چینل میں بہت زیادہ لابنگ ہو رہی ہے۔ ایچ ای وی اور پی ایچ ای وی بنانے والے چاہتے ہیں کہ متبادل انرجی کے کور میں ان پر ٹیکس کی شرح کم ہو۔

دوسری طرف یہ دلیل ہے کہ مہنگی گاڑیوں بالخصوص ایک کروڑ سے مہنگی گاڑیوں کو ٹیکس سبسڈی اور ریلیف دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو ایک کروڑ کی گاڑی خرید سکتا ہے وہ مکمل ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن لابنگ کا کھیل جاری ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس کی مد میں نقصان ہو رہا ہے۔ کمپنیاں گاڑیاں فروخت نہیں کر رہی ہیں۔ صنعت رک گئی ہے۔ سب نئی آٹو پالیسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ویسے تو آٹو پالیسی پانچ سال کے لیے دی جاتی ہے۔

پہلی پالیسی پانچ سال بعد ختم ہوئی ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ پرانی پالیسی ختم ہونے سے پہلے نئی پالیسی کا اعلان کر دیتی۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔ آٹو پالیسی پھنس گئی ہے۔ سب کے اپنے اپنے مفاد ہیں۔ اس ٹکراؤ میں حکومت سے نئی آٹو پالیسی بن ہی نہیں رہی۔

آٹو صنعت سے وابستہ لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ صنعت کو تحفظ دینے کے لیے پانچ سال کی نہیں دس سال کی پالیسی دی جائے تا کہ سرمایہ کاروں کے سامنے دس سال کا روڈ میپ موجود ہو۔ وہ کھل کر کھیل سکیں۔ پانچ سال کم ہیں۔ لیکن اب جب آٹو پالیسی ہے ہی نہیں تو کہا جارہا ہے کہ چلیں پانچ سال کی ہی پالیسی دے دیں۔

Load Next Story