زنجیر بھی اور بھاری بھی

غالب نے اپنے ایک خط میں کسی کو لکھا ہے کہ لوگوں کو گالیاں دینے کا بھی سلیقہ نہیں

ہمیں کسی پارٹی یا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ جس کاکام اسی کو ساجھے۔ سارے بزرگ فرماچکے ہیں کہ جہاں کھجلی نہ ہو وہاں ’’کھجانا‘‘ احمقوں کا کام ہے۔حافط شیرازی کہتے ہیں کہ

رموز مصلحت ملک خسرواں دانند

گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش

یعنی ملکی معاملات حکمران جانیں، وزراء جانیں، سیاستدان جانیں، بانی مبانی جانیں۔ تم خواہ مخواہ ہاتھیوں کے بیچ مینڈک مت بن۔مرشد نے بھی فرمایا ہے کہ

غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

رویئے زار زار کیا؟کیجیے ہائے ہائے کیوں

اور اپنے خوشحال خٹک نے بھی کہا ہے

شیخ دے مونز روژہ کا زہ بہ ڈکے پیالئی اخلمہ

ہر سڑے پیدا دے خپل خپل کار لرہ کنہ

یعنی شیخ اپنا روزہ نماز کرے، میں بھرے ہوئے پیالے پیوں گا، ہر ہر کوئی اپنے کام کے لیے پیدا ہوا ہے۔ہمیں سیاست کی اونچی باتوں سے کوئی سروکار نہیں۔مطلب یہ کہ کسی کے بھی طرف دار نہیں ہیں لیکن سخن فہم تو ہیں اس لیے بعض غلط الفاظ اور غلط باتوں پر اگر غصہ نہیں تو تاسف تو ہوتا ہے۔

غالب نے اپنے ایک خط میں کسی کو لکھا ہے کہ لوگوں کو گالیاں دینے کا بھی سلیقہ نہیں ۔اسی طرح کچھ لوگ کچھ لوگوں کو ایسے خطاب دے دیتے ہیں جو مناسب بالکل نہیں ہوتے اور اس سلسلے میں سیاسی متوالے ، جیالے اور تبدیلی والے ہمیشہ بدذوقی کا ثبوت دیتے ہیں۔

مثلاً  زنجیر جہانگیر کی اصطلاح بار بار دہرائی جاتی ہے ۔ہمیں بڑا دکھ ہوا ،کہاں آزادی جیسی نازک اندام،خوبصورت اور لطیف نعمت اور کہاں بادشاہت جہانگیری اور اس کی بدرنگ بدنما سخت،آہنی اور فولادی زنجیر جو بظاہر انصاف کے استعارے کے طور پر استعمال کی گئی لیکن زنجیر کو تو ہمیشہ قہرو غضب،سختی،آزار اور سزا اور ظلم کے لیے بولا گیا ہے،جبر اور غلامی کی زنجیر،قیدوبند اور غربت و افلاس،مجبوری اور قہر و سزا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اردو شاعری میں تو زنجیر کو نفرت اور ظلم کا مظہر قرار دیا گیا ہے خاص طور پر فیض،ساحر،جالب،فراز اور قتیل شفائی نے تو زنجیر کو ہمیشہ ایک برائی کے طور پر یاد کیا ہے۔بلکہ علامہ نے بھی جی بھر کر زنجیروں کو کوسا ،کاٹا اور توڑا ہے۔ ناصر کاظمی نے بھی کہا ہے۔

زنجیر جو پہناؤ گے جھنکار تو ہوگی

رسوائی تمہاری سربازار تو ہوگی

مطلب یہ کہ ’’زنجیر‘‘ایک مستقل ظلم و جبر کی نشانی ہے۔ اسے نزاکت یا آزادی کے لیے استعمال کرنا سخت بد ذوقی ہے لیکن لکھاری زور آور لوگ ہیں۔اور زورآور چاہیں تو پانی اوپر کی جانب اور دھوئیں کو نیچے کی طرف بھی اڑا سکتے ہیں،چاہیں تو کسی بھی بات پر بھنگڑا ڈال سکتے ہیں۔

ہمیں ان بھنگڑوں سے کوئی علاقہ بھی نہیں لیکن زبان محاوروں اور الفاظ کے غلط استعمال پر دکھ ہوتا ہے اور پھر انصاف کے لیے زنجیر؟ جیسا سخت و کرخت لفظ؟ہمیں یاد ہے جب ’’تبدیلی سرکار‘‘ ہمارے وزیراعظم تھے تو اس وقت افغانستان کے وزیراعظم ایک ملا صاحب تھے، اس وقت ایک ستم ظریف افغان شاعر نے ہم سے کہا تھا کہ تم لوگوں نے ہمارے ساتھ بڑا گھپلا کیا ہے، اپنے لیے تو خوش شکل اور خوش لباس  وزیراعظم بنا لیا ہے اور ہمارے لیے؟؟

ایسا وزیراعظم کہ شکل ہی سمجھ نہیں آتی۔اور یہاں اپنے لکھاریوں کی بد ذوقی۔ انصاف کو زنجیر کہتے ہیں۔ اگر زنجیر کے بجائے بانسری کی نزاکت سے جوڑیں تو کیا بُرا تھا۔ کسی سیاستدان کو سب پر بھاری کہہ دینا بھی درست استعارہ یا تشبیہ نہیں ہے کیونکہ ’’بھاری‘‘ کا لفظ اردو میں مشکلات کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ وقت ہم پر بھاری ہے، یہ کام ہم پر بھاری ہے، فلاں شخص بھاری ہے۔کسی ملک پر کوئی آفت آجائے یا کسی فرد پر کوئی افتاد پڑ جائے تو کہتے ہیں یہ وقت ہم پر بھاری ہے۔یہ وقت ملک پر بھاری ہے۔

بے قراری سی بے قراری ہے

دل بھی بھاری تھا رات بھاری ہے

مطلب یہ کہ لفظ بھاری بہت’’بھاری‘‘ لفظ ہے۔یہ کوئی صفت نہیں بلکہ عیب ہے، الزام ہے، تعریف نہیں مذمت ہے،ہمیشہ شاعرلوگ جدائی اور ہجرو فراق کی رات کو بھاری کہتے ہیں لہذا کسی اچھے شخص کو بھاری کہنا ہمیں بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔

خیر ہمارا مشورہ کوئی مانے گا تو نہیں کہ سیاست اور ادب و شاعری میں’’ماننا‘‘ تقریباً کفر کے مترادف سمجھا جاتا ہے لیکن ہم نے زبان اور الفاظ کی حد تک اپنا فرض ادا کردیا ہے۔

Load Next Story