ایچ آئی وی پازیٹو سے بچوں کی ہلاکت کے معاملے سے متعلق کیس: سرکاری رپورٹ عدالت میں پیش

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ضروری اقدامات کر دیے گئے ہیں، درخواست غیر مؤثر ہوچکی ہے

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں ایچ آئی وی پازیٹو سے بچوں کی ہلاکت کے معاملے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے حکومت سندھ کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ضروری اقدامات کر دیے گئے ہیں، درخواست غیر مؤثر ہوچکی ہے، 2 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ مختص کیا جا چکا ہے، 37 ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی ہے، تھراپی سینٹر قائم کر دیے گئے ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، لہٰذا درخواست نمٹا دی جائے۔

درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مزید 120 بچوں میں وائرس کی موجودگی کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم تاحال آئی جی سندھ کی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں، وائرس کے پھیلاؤ کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں، جو صرف حکومت ہی درج کرا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف محکمہ جاتی کارروائی کرکے معاملات کو دبانا چاہتی ہے، 2025 کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا اور اطلاعات ہیں کہ ریکارڈ غائب کیا جا رہا ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ حکومت سندھ کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو 11 اگست تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری لیبر سندھ، سیکریٹری صحت، کمشنر سیسی اور کلثوم بائی ولیکا اسپتال کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق صوبے میں تقریباً 200 بچے ایڈز سے متاثر ہیں، جبکہ صوبہ سندھ میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ استعمال شدہ انجیکشنز کا دوبارہ استعمال ہے۔

طارق منصور ایڈووکیٹ کے مطابق اس بیماری کے باعث کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں 8 بچے انتقال کر چکے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ استعمال شدہ انجیکشنز کا دوبارہ استعمال روکنے کے اقدامات کیے جائیں اور کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ہلاکتوں کی انکوائری کرا کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔

Load Next Story