پشاور ہائیکورٹ: پاکستان میں عارضی قیام کیلئے دو افغان صحافیوں اور ایک شہری کی درخواست منظور

عدالت نے افغان سپریم کورٹ کے جج اور سابق دوجرنیلوں سمیت دیگر افراد کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

فوٹو: فائل

پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان میں موجود دو افغان صحافیوں اور ایک شہری کی عارضی قیام کے لیے درخواستوں کی منظوری دیتے ہوئے وزارت داخلہ کو ارسال کردیا  جبکہ دیگر کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات نے پاکستان میں عارضی قیام کے لیے افغان صحافیوں، افغان سپریم کورٹ کے جج اور ملی اردو کے دو جرنیلوں سمیت 8 افراد کی درخواستوں پر سماعت کی۔

درخواست گزار صحافیوں سید انعام اللہ صالحی اور سید منیر احمد حدف کی جانب سے وکیل شفقت علی شاہ اور افغان ملی اردو کے جرنیلوں بریالے شریفی اور عبد المجیب کی نمائندگی وکیل ہاشم خان مینگل نے کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ محمد نوید عمری  امریکن  ملٹری جبکہ فہیمہ صافی فلاحی تنظیم کے ساتھ  کام کرتی  تھیں، عبد اللہ محمدی افغان سپریم کورٹ کے جج اور عبدالقیوم عمرزئی افغان نیشنل ڈیفنس میں تھے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کو افغانستان میں جان کا خطرہ ہے، طالبان نے درخواست گزاروں کا گھر بھی مسمار کیا ہے، درخواست گزاروں نے مختلف ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دی ہیں لہٰذا تب تک درخواست گزاروں کو پاکستان میں عارضی پناہ دی جائے۔

جسٹس وقار احمد نے پوچھا کہ کیا ان کو کسی ملک سے لیٹر اف ریکمنڈیشن (سفارشی خط )ملا ہے، جس پر وکیل نے آگاہ کیا کہ صرف صحافیوں اور  محمد نوید عمری کو ملے ہیں لیکن دیگر لوگوں کو ابھی تک ریکمنڈیشن لیٹر نہیں ملا۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد  پ5 درخوست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ دو صحافیوں اور درخواست گزار محمد نوید عمری کی درخواستیں منظور کرلی۔

عدالت نے صحافیوں سمیت تینوں افراد کا کیس وزارت داخلہ ارسال کردیا اور معاملے پر دو ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تینوں درخواست گزاروں کو گرفتاری اور ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا۔

Load Next Story