ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے ورنہ بہت سخت مار پڑے گی، امریکی صدر ٹرمپ کی نئی دھمکی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد بحری آمدورفت کے لیے کھل جانی چاہیے، بصورت دیگر ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد بحال ہو جائے گی، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی، ورنہ ایران کو بہت سخت مار پڑے گی۔‘ تاہم انہوں نے اس ممکنہ کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب رپورٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ 48 گھنٹے میں معاہدہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز، بحری آمدورفت اور علاقائی سلامتی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اشتعال انگیز اقدامات کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔
.@POTUS on Iran: "The Strait is going to be open very soon — or they're gonna hit very hard, and then the Strait is going to be open." pic.twitter.com/Phexz39YE8
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) August 5, 2026
سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا تازہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس بات کا انحصار آئندہ سفارتی اور فوجی پیش رفت پر ہوگا کہ صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے یا مذاکرات کے ذریعے کسی حل کی طرف بڑھتی ہے۔