لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی 5 اگست کو مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس مرزا وقاص رؤف نے پی ٹی آئی لاہور کے صدر میاں عثمان اکرم کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست کو غیر ضروری قرار دے کر مسترد کر دیا۔
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت کس قانون کے مطابق عدالت جلسے کی اجازت دے سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور پہلے ہی فیصلہ کر چکے ہیں، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ درخواست گزار ڈپٹی کمشنر کے حکم کو چیلنج کرے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرخ خان لودھی نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم ڈپٹی کمشنر لاہور نے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر جلسے کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی لاہور کے صدر ہیں اور مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ جلسے کی اجازت کے لیے 22 جولائی کو ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست دی گئی، مگر اجازت نہیں دی جا رہی۔ درخواست میں کہا گیا کہ جلسہ کرنا ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔
عدالت ڈپٹی کمشنر کو درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے اور فیصلہ کرنے میں تاخیر کو غیر آئینی قرار دے۔ تاہم دورانِ سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر درخواست پر فیصلہ کر چکے ہیں، جس پر عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔
تحریک انصاف کی احتجاجی کال کے معاملے پر پی ٹی آئی لاہور نے ایوانِ عدل، پی ایم جی چوک پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔
پی ٹی آئی لاہور کی قیادت نے کارکنوں کو ایوانِ عدل کے باہر پہنچنے کی ہدایت کی، پی ٹی آئی کے مطابق وکلا ونگ کی جانب سے جی پی او چوک جبکہ پی ٹی آئی لاہور کی جانب سے پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کا فیصلہ کیا گیا، صدر پی ٹی آئی لاہور میاں عثمان اکرم کا کہنا ہے کہ جلسے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں احتجاج کا پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
ایوان عدل کے باہر پی ٹی آئی کے احتتاج پر پولیس نے ورکر اور اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، پولیس نے پی ٹی آئی ورکرز اور رکن پنجاب اسمبلی اویس ورک کو گرفتار کر لیا۔