ترسیلاتِ زر کے لیے ایک نئی اسکیم جلد متعارف کرائی جائے گی، گورنر اسٹیٹ بینک
(فوٹو : انٹرنیٹ)
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں مزید ترغیبات کی فراہمی کے لیے ایک نئی اسکیم عنقریب متعارف کروائی جائے گی، مرکزی بینک نے اسلامی بینکاری کیلئے اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر رکھی ہے، اسٹیٹ بینک اپنے فریم کو شریعہ کمپلائنٹ بنانے پر بھرپور کام کررہا ہے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو سیلانی ویلفئیر کے تحت نیشنل اسلامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیارات سے نظام کو ہم آہنگ کررہے ہیں دنیا کی دیگر مارکیٹوں کا مشاہدہ کرکے ان کے پراڈکٹس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آغاز سے نصب العین رہا ہے کہ ہمارا بینکاری نظام اسلامی ہو کیونکہ 1948 میں بابائے قوم نے اسٹیٹ بینک کے قیام کے موقع پر اپنے خطاب میں اسلامی بینکاری پر زور دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر 2027 تک اسلامی بینکاری نظام کے نفاذ کیلئے حکومت نے اپنی حکمت عملی واضح کردی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے سکوک کے اجراء میں تیزی ظاہر کی ہے۔ 16اپریل 2026 کو ہائبرڈ سکوک جاری کیا گیا جس سے حکومت نے 1800ارب روپے حاصل کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے ساتھ مل کر قلیل مدتی ہائبرڈ سکوک کا آغاز کیا ہے۔ حکومت نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے ہائبرڈ سکوک سے 239ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکرز اور شریعہ اسکالرز میں کیپسٹی بلڈنگ کی ضرورت رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کیپسٹی بلڈنگ کے حوالے سے کام کررہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلامک بینکنگ کے لیے کام کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک مدارس اور جامعات کے میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے شرکاء اپنی سفارشات مرتب کریں جسکی روشنی میں مل کر مسائل حل کریں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک فری لانسرز کو سہولیات دینے کیلئے کام کررہا ہے گزشتہ سال زرمبادلہ کے ذخائر 41.6ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جو لوگ باہر سے پیسے بھیج رہے ہیں انہیں مزید سہولیات دیں گے۔ شکایات کے ازالے کیلئے اسپیشل ہیلپ ڈیسک بھی بنایا ہوا ہے۔ ہمارا نصب العین ہے کہ بینکنگ سسٹم اسلامی تصورات کے مطابق ہو۔ رباء سے پاک مالی نظام کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔ شارٹ ٹرم سکوک کلچر کی بھی اسٹیٹ بینک نے منظوری دی ہے۔ اسلامک بینکوں کو ٹریژری بلز کا متبادل نظام مہیا کردیا گیا ہے۔ شارٹ ٹرم ہائبرڈ سکوک جاری ہونے کے بعد مارکیٹ کو بینچ مارک فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللّٰہ نے کہا کہ رباء فری پاکستان کا قدم انتہائی قابلِ ستائش ہے اسلامک فنانس کا ماڈل صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ہر مذہب کے فرد کیلئے فلاح کا کام کرتا ہے کسی بھی معاشی نظام کا بنیادی مقصد عوام کی بہبود ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشی نظام عوام کی بہبود کی انتہائی شاندار طریقے سے ضمانت مہیا کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک اسٹیک ہولڈرز کے خوابوں کے مطابق پیشرفت کررہا ہے۔ پاکستان کی بینکنگ انڈسٹری کا 29فیصد حصص اسلامک ہوگیا ہے جبکہ 40فیصد قرضوں کا اجراء اسلامی بینکاری کے تحت کیا جارہا ہے اور 44فیصدبینکوں کی برانچیں شریعہ کمپلائنٹ ہو چکی ہیں۔ سب سے اہم پیشرفت گزشتہ 2 ماہ میں ہوئی ہے۔ جون میں حکومت پاکستان نے پوسٹ 2027 کے مالیاتی نظام کی حکمتِ عملی جاری کردی ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے بلیو پرنٹ بھی جاری کر دیا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے خود سے پوسٹ 2027 کی حکمتِ عملی جاری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یکم جنوری 2028 سے مقامی قرضے اسلامی بینکاری نظام کے تحت جاری ہوں گے۔ حکومت نے حکمتِ عملی میں بیرونی قرضوں میں شریعہ کمپلائنس کی ہر ممکنہ کوشش کا عزم کیا ہے۔ 31دسمبر 2027 تک حکومت نے ہر عزم کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا ہے۔ روایتی بانڈز اور قرضوں کی میچورٹی ہونے کے بعد روایتی رول اوور کی بجائے شریعہ کمپلائنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک رجسٹری کمپنی بنانے جارہی ہے جس میں وفاق کے لیز ایبل اثاثے تفویض کیے جائیں گے۔ اس بنیاد پر حکومت اپنے قرضوں کا حصول بہتر کرسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 40 میں سے 20 قوانین کا ریویو کرلیا گیا ہے، ان قوانین میں ترامیم 31 دسمبر 2027 سے قبل کروالی جائیں گی۔
اس موقع پر مفتی منیب الرحمان، حسن بخشی، عامر پراچہ، بلال بن ثاقب ودیگر نے بھی خطاب کیا۔