آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس وقت کوئی دوسرا ملک اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکا کے مقابلے میں مؤثر کنٹرول نہیں رکھتا۔
اوہائیو کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال کو بھی اپنے لیے مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے حالات ’بالکل ٹھیک‘ جا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ ’’ہم مکمل طور پر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتے ہیں، کوئی اور نہیں، صرف ہم۔‘‘
ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے کسی مرحلے پر کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اسے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال امریکا خطے میں ایک ’’بہت اچھی پوزیشن‘‘ میں ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے ایک طاقتور اور اثرانداز ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں اپنی طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے، تاہم ان کے بقول اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب مشرق وسطیٰ میں پہلے جیسی بالادست حیثیت نہیں رکھتا اور امریکا نے خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، اس لیے اس علاقے میں کشیدگی کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر پڑتا ہے۔
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔