پنجاب پولیس کی حراست میں خواتین کے مبینہ استحصال، ہلاکتوں کے معاملے پر نگران پبلک ایڈ کمیٹی کی پریس کانفرنس

اس وقت پنجاب پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے، رہنما نگران پبلک ایڈ کمیٹی وقاص احمد بٹ، قیصر شریف شاہد نوید ملک

 

لاہور میں پنجاب پولیس کی حراست میں خواتین کے مبینہ استحصال، ہلاکتوں اور دیگر اہم شہری مسائل کے معاملے پر لٹن روڈ لاہور میں نگران پبلک ایڈ کمیٹی کے وقاص احمد بٹ، صدر پبلک ایڈ کمیٹی قیصر شریف اور سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی شاہد نوید ملک نے پریس کانفرنس کی۔

وقاص احمد بٹ نے کہا کہ اس وقت پنجاب پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے۔ لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ایک ذہنی معذور بچی کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کیا گیا، جبکہ ٹاؤن شپ میں زیر حراست دو خواتین پراسرار طور پر ہلاک ہوگئیں۔ ماڈل ٹاؤن تھانے میں بھی ایک بچی کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

وقاص احمد بٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خواتین کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی ہیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ اس ریڈ لائن کا کیا ہوا؟ وزیراعلیٰ خود ایک خاتون اور ایک ماں ہیں، وہ صرف ایسے واقعات کا نوٹس ہی نہ لیں بلکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں۔ جب اقتدار میں رہنے والے خود جرائم پیشہ ہوں تو پھر عوام کو تحفظ کون دے گا۔

صدر پبلک ایڈ کمیٹی لاہور قیصر شریف نے کہا کہ جعلی پولیس مقابلوں کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔ پولیس کو سیاسی مخالفین کو کچلنے اور ان کی آواز بند کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 12 فروری کو میانوالی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس شہریوں کو جناب اور آپ کہہ کر مخاطب کرے گی۔ پولیس اصلاحات 15 مئی تک مکمل ہوجانی چاہئیں تھیں، لیکن وزیراعلیٰ کا یہ نعرہ بھی محض دعویٰ ہی رہا ہے۔

قیصر شریف نے کہا کہ 137 ارب روپے لاہور کے ترقیاتی کاموں کے لیے خرچ کیے گئے، لیکن شہر کے کئی حصوں میں کھدائی کی گئی ہے۔ پولیس کے رویوں میں تبدیلی کے لیے دی گئی 3 ماہ کی ڈیڈ لائن کہاں گئی؟ اس سال کے پہلے تین ماہ میں خواتین پر تشدد کے 414 کیس رجسٹرڈ ہوئے۔ پولیس حکام کی کل کی پریس کانفرنس سے عوام کو ان کے سوالوں کے جواب نہیں ملے۔

قیصر شریف نے کہا کہ جب پولیس کے افسران جواب دینے کی بجائے خود سوال اٹھانا شروع کردیں تو مطلب ہے کہ نظام بیٹھ چکا ہے۔ متاثرہ خواتین کے خاندان ہمارے رابطے میں ہیں، انہیں ہر طرح کی قانونی اور اخلاقی معاونت فراہم کریں گے۔ اسی لیے حافظ نعیم الرحمان نظام بدلنے کی بات کررہے ہیں۔

Load Next Story