کیٹی بندر کو جدید سمندری بندرگاہ اور تجارتی حب بنانے کے حوالےسے جامع ماڈل تیار کرنے کی ہدایت
(فوٹو: فائل)
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہیدرانی محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق کیٹی بندر کو جدید سمندری بندرگاہ اور تجارتی حب بنانے کے حوالےسے محکمہ سرمایہ کاری کو ایک جامع اور سرمایہ کاری پر مشتمل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل جلد تیار کرنے کی ہدایت دے دی۔
اجلاس ہفتے کے روز وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی قاسم نوید، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری سرمایہ کاری راجہ خرم، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندری بندرگاہ اور مربوط اقتصادی راہداری پر مشتمل ایک بڑے بحری اور معاشی ترقیاتی منصوبے کا حصہ بنائیں گے۔
منصوبہ صوبائی بجٹ میں پیش کردہ وژن کے مطابق تیار کیا جائے تاکہ سندھ خطے کا ایک نمایاں بحری، لاجسٹکس، صنعتی اور توانائی کا مرکز بن سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ بندرگاہی انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی، لاجسٹکس، ماہی گیری، توانائی کی سہولیات اور سیاحت سے متعلق سرمایہ کاری سمیت تمام شعبوں کا تفصیلی منصوبہ تیار کیا جائے اور مرحلہ وار ترقیاتی حکمت عملی پیش کی جائے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مجوزہ کیٹی بندر انٹیگریٹڈ کوریڈور معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہوگا جبکہ سندھ کی ساحلی پٹی اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ترقیاتی امکانات کو بھی بروئے کار لائے گا۔منصوبے کے تحت کیٹی بندر کوپی پی پی فریم ورک کے تحت ایک عالمی معیار کے بحری، لاجسٹکس، صنعتی اور توانائی مرکز میں تبدیل کیاجائے گا ۔
منصوبے کے اہم اجزا میں گہرے سمندر کی بندرگاہ، لاجسٹکس اور گوداموں کی سہولت، صنعتی زونز، توانائی کا انفراسٹرکچر، ماہی گیری اور سمندری خوراک کی پراسیسنگ کی سہولیات، سیاحتی منصوبے اور برآمدات پر مبنی معاشی سرگرمیاں شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی بجٹ 27-2026 کے مطابق کیٹی بندر میری ٹائم، فشریز اینڈ پیٹرولیم اکنامک کوریڈور میں 1 ارب سے 2.5 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری صلاحیت موجود ہے۔ کوریڈور میں جدید فشنگ ہاربر، سمندری خوراک کی برآمدی پراسیسنگ کی سہولیات، پٹرولیم ہینڈلنگ ٹرمینلز، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور صنعتی معاون زونز شامل ہوں گے۔انہوں نے حکام کو کیٹی بندر کو مستقبل کے توانائی کے گیٹ وے کے طور پر ترقی دینے کے لیے بھی تفصیلی منصوبہ بندی کی ہدایت کی۔
منصوبے میں ایل این جی/آر ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمدی سہولیات کے ساتھ دیگر اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا قیام بھی شامل ہے۔ فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق مجوزہ ترقی کے لیے تقریباً 4,000 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔
مراد علی شاہ نے معاون انفراسٹرکچر، بشمول سڑک، ریل اور بحری رابطوں کی بھی تفصیلی منصوبہ بندی کرنے پر زور دیا، بالخصوص کیٹی بندر کو صوبے کے صنعتی اور توانائی کے منصوبوں سے منسلک کرنے پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ منصوبے پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کیٹی بندر اور شاہ بندر میں جدید سہولیات سے آراستہ چھوٹی ماہی گیری کی بندرگاہیں قائم کی جائیں گی، جن میں جدید نیلامی ہال، کولڈ اسٹوریج، کشتیوں کے لنگر انداز ہونے کی سہولیات اور ماہی گیری سے متعلق دیگر خدمات شامل ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں ایک مکمل تجارتی گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر کی جائے گی۔
مراد علی شاہ نے کیٹی بندر کو ایک تاریخی قدرتی بندرگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر کی ترقی سے نہ صرف کراچی پورٹ پر دباؤ کم ہوگا بلکہ پاکستان کی بحری صلاحیت میں اضافہ، ماہی گیری کی برآمدات میں فروغ، توانائی کے تحفظ میں بہتری، صنعتی ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے محکمہ سرمایہ کاری کو ہدایت کی کہ ایک تفصیلی پی پی پی ماڈل تیار کیا جائے۔ممکنہ سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی نشاندہی کی جائے اور جامع عملدرآمد منصوبہ جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ صوبائی بجٹ میں کیے گئے وعدوں اور اعلانات کے مطابق منصوبے کو آگے بڑھایا جاسکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کیٹی بندر کی ترقی سندھ حکومت کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے اور پائیدار معاشی ترقی اور ساحلی علاقوں کی ترقی کے لیے ہماری طویل مدتی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے۔