1000 سال قدیم پوپ کا گمشدہ خط دریافت، اہم انکشاف!
سال 1066 میں انگلستان پر ولیم فاتح کے حملے اور نارمن فتح سے متعلق ایک نئی دریافت نے تاریخ دانوں کو حیران کردیا ہے۔ ویٹیکن کے آرکائیوز سے ملنے والے ایک گمشدہ خط کے مطابق انگلستان کے تخت کی جنگ پر روم میں جاری دو حریف پوپوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے بھی اثر ڈالا تھا۔
1066 میں نارمنڈی کے ڈیوک ولیم نے ہیرالڈ گوڈونسن کو ہیسٹنگز کی جنگ میں شکست دے کر انگلستان کا تخت حاصل کرلیا تھا۔ اس واقعے کو عام طور پر ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے بعد انگلش تخت کے لیے پیدا ہونے والی کشمکش کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم پوپ الیگزینڈر دوم کے نئے دریافت ہونے والے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تاریخی جنگ کے پسِ پردہ روم کی سیاست بھی اہم کردار ادا کرسکتی تھی۔
1060 عیسوی کی دہائی میں روم میں دو حریف پوپ اپنی اپنی مذہبی اتھارٹی منوانے کے لیے آمنے سامنے تھے۔ اس دوران انگلستان کی جانب سے پوپ کے مخالف دھڑے کی حمایت نے مبینہ طور پر پوپ الیگزینڈر دوم کو ولیم کی انگلستان پر یلغار کی حمایت پر آمادہ کیا۔
یوں ولیم کا حملہ محض تخت پر قبضے کی جنگ نہیں رہا بلکہ اسے مذہبی اور سیاسی جواز بھی حاصل ہوگیا۔
ماہرین کے مطابق عین ممکن ہے روم میں ہونے والے فیصلوں نے انگلستان کی تاریخ کا رخ بدلنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔
یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے پروفیسر ٹام لائسنس کا کہنا تھا کہ 1066 کا فیصلہ صرف ہیسٹنگز کے میدان میں نہیں ہوا تھا بلکہ روم میں کیے گئے فیصلوں نے بھی جنگ کے نتیجے کو متاثر کیا ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق ہیرالڈ کی پاپائیت سے متعلق پالیسی بالآخر اس کے دشمنوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی اور ولیم کے حملے کو ایک جائز جنگ کے طور پر پیش کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔
نئی دریافت سے نارمن فتح کی صدیوں پرانی کہانی کا ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے جس کے مطابق انگلستان کے تخت کی جنگ کے فیصلے میں صرف انگلینڈ اور نارمنڈی ہی نہیں بلکہ دور روم کی مذہبی و سیاسی کشمکش بھی شامل تھی۔