کراچی؛ موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے اسٹیٹ ایجنٹ اور وکیل قتل
شہر قائد میں موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے اسٹیٹ ایجنٹ اور وکیل کو قتل کردیا۔
نارتھ کراچی سیکٹر C-2/11 میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے اسٹیٹ ایجنٹ اور وکیل جاں بحق ہوگئے، پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے۔ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے 5 خول بھی برآمد ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سرسید تھانے کی حدود نارتھ کراچی سیکٹر C-2/11 میں شیڈ اسپتال، نعمانیہ مسجد کے قریب نامعلوم افراد نے 2 افراد پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 35 سالہ ہارون ولد شبیر اور 40 سالہ شکیل شدید زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم دونوں افراد دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
بعد ازاں دونوں مقتولین کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کردی گئیں۔ کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق مقتول ہارون رحمانیہ مسجد سیکٹر G11 نیو کراچی کا رہائشی، 2 بچوں کا باپ اور پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ تھا۔
پولیس کے مطابق ہارون 5 بھائیوں اور 2 بہنوں میں سب سے بڑا اور گھر کا واحد کفیل تھا۔ اس کی گودھرا میں اسٹیٹ ایجنسی تھی جبکہ سرجانی ٹاؤن میں گودھرا گلستان سوسائٹی کے پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار بھی کرتا تھا۔
مقتول شکیل نارتھ کراچی سیکٹر B14، انڈہ موڑ روزی ہوٹل کے قریب کا رہائشی اور پیشے سے وکیل تھا۔ شکیل کے پسماندگان میں ایک بیٹی اور 3 بیٹے شامل ہیں، جبکہ دونوں مقتولین آپس میں کاروباری شراکت دار بھی تھے۔
پولیس کے مطابق شکیل، ہارون کے پلاٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق قانونی معاملات بھی دیکھتا تھا۔ واقعے کے وقت ہارون، شکیل کو گھر چھوڑنے کے لیے لے جا رہا تھا کہ شیڈ اسپتال کے قریب اسپیڈ بریکر پر موٹرسائیکل کی رفتار کم ہوتے ہی گھات لگائے ملزمان نے فائرنگ کردی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ ایس ایچ او سرسید انسپکٹر عرفان آصف کے مطابق واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً پونے 3 بجے پیش آیا۔
پولیس کے مطابق جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے 5 خول تحویل میں لے لیے گئے ہیں، جبکہ فارنزک ٹیم نے موقع سے شواہد بھی جمع کرلیے ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔