ڈاکٹر نگہت کی دوبارہ بطور پروفیسر تقرری کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ڈاکٹر نگہت کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ بطور پروفیسر تقرری کے خلاف درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابل سماعت قرار دے دی۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ صوبائی کابینہ کا فیصلہ پالیسی نوعیت کا ہے اور بادی النظر میں کابینہ کے فیصلے میں کوئی دائرہ اختیار کا نقص یا بدنیتی نہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ نے ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے 2 روز قبل دوبارہ 3 برس کے لیے تقرری کی ہدایت کی، جبکہ شعبہ گائنی میں پروفیسر کی آسامی کا اشتہار پہلے ہی جاری ہوچکا تھا اور تقرری کا عمل جاری تھا۔ نعیم اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تقرری حق نہیں بلکہ غیر معمولی اقدام ہے، درخواست گزار ڈاکٹر میمونہ شعبہ گائنی میں پروفیسر کی تقرری کے لیے حقدار ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی کابینہ نے عوامی مفاد، تعلیم اور تحقیقی بہتری کے پیش نظر ڈاکٹر نگہت کی تقرری پر غور کی ہدایت کی، کابینہ کے فیصلے نے ڈاکٹر نگہت کو پروفیسر مقرر نہیں کیا اور اس فیصلے سے تقرری کے قانونی طریقہ کار کی شرائط ختم نہیں ہوتیں۔
عدالت نے کہا کہ پی ایم ڈی سی ریگولیشنز کے تحت سرکاری اداروں کے فیکلٹی ارکان کو ریٹائرمنٹ کے بعد سروس میں برقرار رکھنے کا حق دیا گیا ہے، تاہم تقرری ادارے کی ضرورت اور قوانین کے تابع ہے۔ ڈاکٹر نگہت کی دوبارہ تقرری سے یونیورسٹی ملازمین کی ترقی یا سنیارٹی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار کے تحت عدالت انتظامیہ کے فیصلے پر اپنا نکتہ نظر جاری نہیں کرسکتی اور پالیسی فیصلوں یا تقرری میں واضح بدنیتی یا قانون کی خلاف ورزی تک مداخلت نہیں کرسکتی۔ سندھ ہائیکورٹ نے درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ناقابل سماعت قرار دے دی۔