مٹکے کا پانی گرمی میں ٹھنڈک کے ساتھ صحت کے لیے کتنا مفید ہے؟
مٹی کے گھڑے میں پانی رکھنا برصغیر کی ایک قدیم روایت ہے، جو جدید دور میں فریج کے عام استعمال کے باعث تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے۔ تاہم مٹکے میں قدرتی طور پر ٹھنڈا ہونے والا پانی آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے پسندیدہ ہے اور اس کے کئی ممکنہ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔
پرانے زمانے میں گھروں میں پانی محفوظ رکھنے کے لیے مٹی کے برتن عام استعمال ہوتے تھے۔ مٹی کے برتن میں موجود باریک مسام پانی کو آہستہ آہستہ ٹھنڈا کرتے ہیں، جس کے باعث بجلی کے بغیر بھی پانی نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرم موسم میں مٹکے کا پانی آج بھی ایک روایتی اور قدرتی متبادل سمجھا جاتا ہے۔
بجلی کے بغیر قدرتی ٹھنڈک
مٹکے میں موجود پانی کسی برقی نظام کے بغیر ٹھنڈا رہتا ہے۔ مٹی کے مساموں سے پانی کی معمولی مقدار باہر آکر بخارات میں تبدیل ہوتی ہے اور اس عمل سے گھڑے کے اندر موجود پانی کا درجہ حرارت کم رہتا ہے۔ اس طرح پانی فریج کے انتہائی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں نسبتاً معتدل ٹھنڈک کے ساتھ دستیاب ہوتا ہے۔
مٹی کے معدنی اجزا کا ممکنہ فائدہ
مٹی کے برتن میں پانی رکھنے کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں موجود قدرتی معدنی اجزا پانی میں معمولی مقدار میں شامل ہوسکتے ہیں۔ بعض روایتی تصورات کے مطابق مٹی کی الکلائن خصوصیات پانی کی تیزابیت کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہیں، تاہم ان دعوؤں کے طبی فوائد کے لیے مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں۔
نظامِ ہاضمہ کے لیے نسبتاً نرم انتخاب
مٹکے کا پانی عموماً بہت زیادہ ٹھنڈا نہیں ہوتا، اس لیے بعض افراد اسے کھانے کے بعد پینے کے لیے زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ روایتی طور پر اسے ہاضمے کے لیے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم نظامِ ہاضمہ یا میٹابولزم پر اس کے خصوصی طبی اثرات کے دعووں کو حتمی سائنسی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔
مٹی کے گھڑے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس میں پانی محفوظ کرنے کے لیے پلاسٹک کی بوتل کی ضرورت نہیں پڑتی، تاہم گھڑے کی صفائی اور اس میں استعمال ہونے والی مٹی کا محفوظ ہونا انتہائی ضروری ہے۔
گلے کے لیے معتدل درجہ حرارت
فریج سے نکالا گیا انتہائی ٹھنڈا پانی بعض لوگوں کو گلے میں عارضی تکلیف یا حساسیت کا احساس دے سکتا ہے، جبکہ مٹکے کا پانی عموماً نسبتاً معتدل ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے گرمی میں بہت سے لوگ اسے گلے کے لیے زیادہ آرام دہ سمجھتے ہیں۔
البتہ یہ کہنا درست نہیں کہ مٹکے کا پانی لازماً کھانسی، نزلہ یا سانس کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے؛ ان بیماریوں کے کئی مختلف اسباب ہوسکتے ہیں۔
گرمی میں تازگی کا روایتی ذریعہ
شدید گرمی میں مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ مٹکے کا نسبتاً ٹھنڈا پانی پیاس بجھانے اور تازگی کا احساس دینے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے صرف مٹکے کے پانی پر انحصار کافی نہیں؛ شدید گرمی میں پانی کے ساتھ مناسب الیکٹرولائٹس، سایہ اور ٹھنڈی جگہ بھی ضروری ہے۔
مٹکا استعمال کرتے ہوئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے باقاعدگی سے صاف رکھا جائے، پانی تازہ رکھا جائے اور گھڑے کو ایسی جگہ رکھا جائے جہاں دھول، کیڑے یا آلودگی پانی تک نہ پہنچ سکے۔