سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہوا تو دھرنا دیں گے، وکلا رہنماؤں کی پریس کانفرنس

لاہور ہائیکورٹ بار میں وکلا رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی

لاہور ہائیکورٹ بار میں وکلا رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دے کر رکھا گیا ہے اور وہ دس ماہ سے قید تنہائی میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان کی رپورٹس دیکھ کر علاج کا فیصلہ کیا، حکومت کا عدالتی حکم کے باوجود بانی چیئرمین کا علاج نہ کرانا بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

بابر مرتضیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے بانی پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قراردادیں منظور کیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے سے بے چینی بڑھے گی۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں چیک اپ کا حکم دیا اور ان کی بہن اور ذاتی معالج کی موجودگی لازمی قرار دی، تاہم حکومت بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کی بجائے پمز ہسپتال لے گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہ کرکے توہین عدالت کی، حکومت نے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔ وزیر قانون نے پریس کانفرنس میں عدالتی حکم نہ ماننے کا اعلان کیا۔ سپریم کورٹ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔ اب اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی تو وکلا احتجاج کریں گے اور عدالتی چھٹیوں کے بعد پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔

سینیٹر حامد خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں آئین اور قانون کی پابندی نہیں وہاں بے چینی پیدا ہوتی ہے، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے انارکی پیدا ہوتی ہے۔ ملک میں ملٹری رجیم ہے جس نے ملک تباہ کردیا، کٹھ پتلیوں کے ذریعے نظام چلایا جارہا ہے۔ دو الگ بڑی عدالتیں بنا کر من پسند فیصلے لینے کا پروگرام بنایا گیا ہے، اگر ایک بڑی عدالت سے ریلیف نہ ملے تو دوسری میں چلے جائیں گے۔

حامد خان نے کہا کہ خان صاحب نے کہا ہے کہ یہ میری صحت تباہ کررہے ہیں۔ خدشہ ہے بانی پی ٹی آئی کو مصر کے وزیراعظم مرسی کی طرح مار دیا جائے گا۔ ملک کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ وکلا انصاف نہیں دلا سکتے تو وکالت کا شعبہ ختم سمجھیں۔ سپریم کورٹ نے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کا حکم دیا، سپریم کورٹ کے واضح حکم کو ماننا توہین عدالت ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق اور خوش آئند ہے۔ 2022 میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے اس وقت کہا کہ ان کے خلاف تین چار جھوٹے مقدمات بنائے جاسکتے ہیں، لیکن ان کے خلاف چار سو سے زائد کیسز بنا دیے گئے۔ اتنے زیادہ جھوٹے کیسز کا ورلڈ ریکارڈ بنایا گیا۔


 

 

Load Next Story