پاکستان بار کونسل نے 8 اراکین کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرلی
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ کونسل کے 23 میں سے صرف 8 اراکین کا جاری کردہ بیان ان کے انفرادی خیالات کی عکاسی کرتا ہے، 8 اراکین کے بیان کو پاکستان بار کونسل کا اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان بار کونسل کے مطابق جمہوری اصولوں کے تحت چلنے والے ادارے میں اقلیت، اکثریت پر اپنا مؤقف مسلط نہیں کرسکتی۔ پاکستان بار کونسل قانونی برادری کا ادارہ ہے اور اسے سیاسی مفادات اور ذاتی ایجنڈوں سے بالاتر رہنا چاہیے۔
پاکستان بار کونسل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور اعلیٰ عدلیہ کے پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد یا کسی پوشیدہ مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ کونسل نے مذکورہ 8 اراکین کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے واضح طور پر لاتعلقی اختیار کرلی۔
پاکستان بار کونسل نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ کونسل کے مطابق مذکورہ بیانات قانونی برادری اور پاکستان بار کونسل کے اجتماعی مؤقف، پالیسی یا خیالات کی نمائندگی نہیں کرتے۔
پاکستان بار کونسل نے کہا کہ بار نمائندوں کو ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے بار کے پلیٹ فارمز استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ پاکستان بار کونسل قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور آئینی اداروں کے تقدس پر مکمل یقین رکھتی ہے۔
پاکستان بار کونسل کے مطابق تمام اراکین سے بنیادی آئینی اور جمہوری اصولوں کے احترام کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان بار کونسل کے وقار اور ادارہ جاتی خودمختاری کا تحفظ تمام اراکین کی ذمہ داری ہے۔