نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں اصلاحات کی منظوری، کسانوں کو معیاری بیجوں کی فراہمی کی ہدایت
فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے کسانوں کو سرٹیفائید اور معیاری بیجوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی اصلاحات اورعمل درآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جہاں وزیراعظم نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت کی اصلاحات سے بھرپور استفادہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلبہ کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایاجائے اور رواں برس تربیت کے لیے جانے والے طلبہ کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔
گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے پر بریفنگ کے بعد وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کے بعد ایک جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو زرعی شعبے کی اصلاحات کے لیے اقدامات پر عمل درآمد پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا کہ ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 27-2026 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے، منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرونک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پروجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام، کیڑوں اور پودوں کی شناخت کے لیے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام جاری ہے، مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے ریسرچ، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کے لیے بھی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے،
مزید بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس سے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے، نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹر آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریاں، نئے تحقیقی سینٹرز بشمول نجی شعبے کے لیے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کے لیے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولتیں قائم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اس سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔