مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی اجلاس؛ ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ نظریے پر کاربند رہنے کا اعادہ
فوٹو فائل
مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی نے نئی حکومت کی جانب سے ریاست میں امن و امان بہتر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کشمیر بنے گا پاکستان نظریے پر کاربند رہنے کا اعادہ کیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی اجلاس پارٹی صدر شاہ غلام قادر کی زیرصدارت ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار اور آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، آئین و قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کا نظریہ الحاق پاکستان اور ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ پر کاربند رہنے کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ پارلیمانی پارٹی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج پاکستان کے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ نئی حکومت آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی، آزاد کشمیر میں رکے ہوئے تعمیر و ترقی کے عمل کو دوبارہ بحال کرنے کا عزم کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی نے آزاد کشمیر میں حالیہ انتخابی عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، چیف الیکشن کمشنر اور انتظامیہ کو کامیاب انتخابات کے انعقاد پر مبارک باد دی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی نے اظہار تشویش کیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کا نوٹس لے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ بھارت نے 2019 میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت غیر قانونی طور پر ختم کی جبکہ کشمیری عوام کی جدوجہد جائز، پرامن اور حق خودارادیت کے لیے ہے اور کشمیر کی لازوال جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ بھارت میں امریکی سفیر کا کشمیر سے متعلق بیان مسترد کرتے ہیں، تنازع کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔