پاکستانی آرمی چیف کا دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا، ایران

بلغاریہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں تعاون سے گریز کرے، ایرانی وزارت خارجہ

تہران: ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو موجودہ دور کے بہترین مراحل میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف کا طے شدہ دورہ ایران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مشترکہ امور پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات ’’بہترین مراحل میں سے ایک‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک باہمی تعاون اور علاقائی معاملات پر رابطے میں ہیں۔

ایرانی ترجمان نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے کہا کہ تہران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مخالفین کی شرائط قبول نہیں کرے گا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی جارح فریق کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرائط خود طے کرے۔ ان کے مطابق ایران کے ریاستی ادارے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی جارحیت کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنے والے فریق کو اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں تعاون کرتا ہے تو ایران کو اس جارحیت کے ذریعے یا اس کے منبع کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔

ایرانی ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی جاری ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں۔

Load Next Story