کپاس کی پیدوار بڑھانے کیلئے گنے کی کاشت کم کرنا ہوگی، گوہر اعجاز

گنے کی فصل کپاس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ پانی استعمال کرتی ہے، پیٹرن انچیف ایپٹما

لاہور:

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کے پیٹرن انچیف گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے گنے کی کاشت کم کرنا ہوگی، کپاس ملک کی اہم ضرورت ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سالانہ 14 سے 15 ملین بیلز کپاس کی ضرورت ہے، تاہم اس وقت ملک میں کپاس کی پیداوار تقریباً 5 ملین بیلز ہے۔

انہوں نے کہا کہ گنے کی فصل کپاس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ پانی استعمال کرتی ہے، اس لیے گنے کی کاشت کم کرکے کپاس کی فصل کو فروغ دینا ہوگا۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ ملک کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں جگہ جگہ شوگر ملز قائم ہوگئی ہیں، ایپٹما کی قیادت کو ٹاسک دے رہا ہوں کہ پاکستان کی کپاس کی فصل کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور مشکلات کے باوجود 19 ارب ڈالر کی برآمدات کررہا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ایک کروڑ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔

پیٹرن انچیف ایپٹما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مزید آگے لے جانے کے لیے کپاس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے، حکومت اور صنعتکاروں کو مل کر اس شعبے کی بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

Load Next Story