ٹرمپ اور ایرانی اسپیکر کے درمیان لفظی محاذ مزید گرم ہو گیا، ایک دوسرے پر طنزیہ وار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان لفظی محاذ مزید گرم ہوگیا دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو سخت جواب دے دیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران مکمل تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر نے اس کے ساتھ قالیباف سے منسوب ایک بیان بھی شیئر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور فوجی طاقت کے باوجود بھوک کی صورت میں جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ٹرمپ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر کے معروف انتخابی نعرے میں طنزیہ تبدیلی کردی۔ قالیباف نے لکھا: "Make America hungry again"۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں 4 کروڑ 70 لاکھ افراد خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور کہا کہ ہر 8 میں سے ایک امریکی شہری کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے ٹرمپ پر قالیباف کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔
پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر کے مطابق قالیباف نے عراق کے دورے کے دوران ایران اور عراق کے معاشی تعاون، امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور اقتصادی جنگ میں کامیابی پر بات کی تھی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے مطابق قالیباف نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ ایران نے فوجی جنگ میں امریکا کو شکست دی جبکہ واشنگٹن اب ذہنی اور اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے قالیباف کے اصل ریمارکس کو تبدیل کرکے انہیں ایران کی فوجی شکست کے اعتراف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ قالیباف کی مکمل تقریر کی ویڈیو بھی عوام کے لیے دستیاب ہے۔