صوبوں کو تقسیم کرنے کے بجائے حقوق کا تحفظ کیا جائے، فضل الرحمان

ہم ملک کے خیرخواہ ہیں اسلیے کھل کر بات کررہے ہیں، اس معاملے پر انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے، مولانا

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صوبوں کو توڑنے کے بجائے ان کا تحفظ کیا جائے، ہم ملک کی خیر خواہی چاہتے ہیں۔

ولادت النبی ﷺ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات سے انسانیت کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو تازہ کیا جاتا ہے، قرآن کریم کے ساتھ حکمت کا ذکر ہے، حکمت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ہر قول و فعل کتاب و سنت کا حصہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صحابہ کرامؓ کی زندگی ہمارے لیے معیار ہے، انہیں حق نہ سمجھنے والا گمراہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق مکلف بنایا ہے، کامیابی یا ناکامی ہماری ذمہ داری نہیں، دین کے لیے محنت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے، ظلم و جبر کے مقابلے میں عدل و مساوات کا نظام رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے،  حکمرانوں کو اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں اور احکامات کا احترام کرنا چاہیے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اسلامی دنیا قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، سیرت النبی ﷺ پر گفتگو کافی نہیں، ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق، تعلیمات اور طرز حکمرانی کو اپنانا ہوگا، دینی مدارس کی تعلیم کو جرم بنانا قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے قانون سازی کرنا آئین اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے، مضبوط ادارے ضروری ہیں لیکن ہر ادارے کے اختیار کی ایک آئینی حد اور دائرہ کار ہے، صوبوں کو توڑنے کی بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں کے حقوق اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی نہیں ہونی چاہیے، ایسی صورت میں صورت حال خراب ہوگی، آئین ختم ہوا تو ملک کو دوبارہ سمیٹنا انتہائی مشکل ہوگا، ہم ملکی خیرخواہی، آئین اور پارلیمنٹ کو ان کے اصل راستے پر چلانا چاہتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، 18 ویں ترمیم اب حلق کا کاںٹا بنی ہوئی ہے، جس کے تحت این ایف سی معاہدے سے وسائل صوبوں کو جاتے ہیں، آئین ٹوٹ گیا تو نئی آئین ساز اسمبلی بنانی پڑے گی، پھر ایسا انشار پھیلے گا جسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کابینہ کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں جاتا چاہیے، اس کے اثرات دفاقی اداروں پر پڑ سکتے ہیں، ہم کھل کر بات اس لیے کررہے ہیں کیونکہ خیر خواہ ہیں، ہم پارلیمنٹ میں جو بات کرتے ہیں وہ عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔

Load Next Story