امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اچانک روس پہنچ گئے
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف اچانک اور غیر اعلانیہ دورے پر روس پہنچ گئے جہاں اعلیٰ روسی حکام سے اہم مذاکرات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق جان ریٹکلف منگل کو ماسکو پہنچے تاہم واشنگٹن اور ماسکو نے تاحال ان کے دورے کی تصدیق یا یہ واضح نہیں کیا کہ وہ روس میں کن حکام سے ملاقات کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے بھی ایک بڑے امریکی فوجی طیارے کی روس آمد کی تصدیق ہوئی۔ امریکی C-17 طیارہ لٹویا کے راستے ماسکو پہنچا اور چند گھنٹے بعد واپس ریگا روانہ ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ماسکو کے ونوکوو ایئرپورٹ کے قریب امریکی فوجی طیارے اور ایک سفارتی موٹرکیڈ بھی دکھائی گئی ہے۔
امریکی حکام نے دورے سے قبل یوکرین کو آگاہ کیا تھا کہ ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد ماسکو جائے گا اور وفد کی موجودگی تک یوکرین سے روس کے خلاف حملے روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔
برطانوی فوج کے سابق ماسکو اتاشی جان فورمین کے مطابق امریکا کسی اعلیٰ عہدیدار کو اتنے مختصر نوٹس پر غیر اعلانیہ طور پر ماسکو نہیں بھیجتا جب تک کوئی اہم معاملہ درپیش نہ ہو۔
ان کے مطابق مذاکرات میں کشیدگی کم کرنے یا روس میں زیرحراست امریکی شہریوں کی رہائی کا معاملہ شامل ہوسکتا ہے۔
جان ریٹکلف اس سے قبل روس میں قید امریکی شہریوں کی رہائی کے مذاکرات میں بھی کردار ادا کرچکے ہیں۔
سی آئی اے 2024 کے ایک قیدیوں کے تبادلے میں بھی شامل تھی جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ایون گرشکووچ اور سابق امریکی میرین پال وہیلن سمیت دیگر افراد رہا ہوئے تھے۔
روس اور امریکا کے تعلقات 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے شدید کشیدہ ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی گزشتہ برس الاسکا میں ملاقات بھی ہوئی تھی، تاہم کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی تھی۔
اب سی آئی اے چیف کا اچانک ماسکو پہنچنا عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات بھی طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔