پی پی پی کا پمز آتشزدگی کی شفاف تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
فوٹو: اسکرین گریب/ فائل
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پمز اسپتال کی گائنی وارڈ میں آتشزدگی سے 14نومولود کی اموات پر شفاف تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کردیا۔
پی پی پی سینیٹر شیری رحمان اور سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے پمز اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 14نومولود کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا۔
شیری رحمان نے کہا کہ ہر ماں، باپ کا دل پھٹ رہا ہے، آپ کے دارالحکومت میں اتنی بری صورت حال ہے کہ جشن عید میلادالنبیﷺ پر 14 ننھنی جانیں چلی گئیں، بچوں کی صورت حال اتنی بری تھی کہ کوئی نہیں پہچانا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے والدین کے ساتھ انتظامیہ نے بالکل بھی تعاون نہیں کیا، یہ حادثہ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے، ایک حادثہ ہوتا ہے جس پر بات ہو کر ختم ہو جاتی ہے، سارا ملک سراپا احتجاج اور غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اپنی طرف سے نوٹس لیا ہے لیکن ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو بھی جواب دینا ہوگا، حادثے کے بعد پانی نہیں تھا، ایمرجنسی گیٹ بند تھے اور ڈاکٹر بھی موجود نہیں تھے، ان ماوں سے پوچھیں جن کے لخت جگر چلے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاست کرنے نہیں آئے، ہمییں ہماری قیادت نے بھیجا کہ ہم عوام کی طرف سے سوال پوچھیں، ذمہ داروں کو بے نقاب کریں، وزارت صحت کو اب عوامی فنڈز لینے کا کوئی جواز نہیں، اسے ختم یا صوبوں کو منتقل کر دینا چاہیے۔
سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نیر حسین بخاری نے کہا کہ پمز میں 14 بچوں کا جاں بحق ہو جانا انتہائی افسوس ناک اور بڑا المیہ ہے، یہ واقعہ مکمل غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ ہے، جس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
نیر حسین بخاری نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ تعین کیا جائے کہ سانحہ کیوں پیش آیا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں، وزارت کی کارکردگی بھی سامنے آنی چاہیے، اگر دو اسپتال بھی مناسب انداز میں نہیں سنبھالے جا رہے تو متعلقہ وزیر اور حکام کو جواب دہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نظام چلتا ہوا اور گورننس مؤثر نظر نہیں آرہی ہے۔