جسے شوق ہے وہ نئے صوبوں کی قرار داد اسمبلی میں لے آئے، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جسے شوق ہے وہ نئے صوبوں کی قرار داد اسمبلی میں لے آئے۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کورنگی میں افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پمز اسپتال کا واقعہ بہت دلخراش ہے۔ ہمارے انسٹی ٹیوٹس کو مزید بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔
نئے صوبوں کے سوال پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پر بات کریں گے کہ اس میں فائدے نقصانات کیا ہیں ۔ بلدیاتی نظام کو مضبوط ، کپسٹی بلڈنگ بنانا ہمارا مینفیسٹو ہے ۔ دوسرے صوبوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کریں۔ سندھ اسمبلی 6 بار پہلے بھی نئے صوبوں کی مخالفت کی قراد داد منظور کر چکی ہے۔ کل اسمبلی میں ہوسکتا ہے کہ نئے صوبوں کی مخالفت کی قرار داد منظور ہو۔ جس کو شوق ہے وہ قرار داد اسمبلی میں آئے۔
قبل ازیں انہوں نے پیٹس اسپتال کے آپریشن تھیٹر، وارڈز اور آئی سی یو کا دورہ کیا اور ڈائیگناسٹک بے، پوسٹ مارٹم ہال اور جدید لیبارٹریز کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پیٹس اسپتال کے مختلف شعبوں، وارڈز، ریکوری وارڈ، ایکسرے اور دیگر سہولیات کا جائزہ کیا جب کہ وزیراعلیٰ سندھ کو سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں نئی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں جدید سہولیات کا قیام اہم پیش رفت ہے۔ نئی سہولیات سے جانوروں کی صحت، تحقیق اور بیماریوں کی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔ لائیو اسٹاک سندھ کی معیشت کا اہم ستون اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ لائیو اسٹاک کا شعبہ غذائی تحفظ، روزگار اور دیہی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت مند مویشی، بہتر پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہماری بنیادی ترجیحات ہیں۔ حکومت سندھ جانوروں کی صحت اور ویٹرنری خدمات کے فروغ پر مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ جدید پیٹ اسپتال میں علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور تشخیص کی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پیٹ اسپتال میں پالتو جانوروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ نئے تشخیصی و تحقیقی کمپلیکس میں ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ جدید لیبارٹریز سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، نگرانی اور روک تھام میں مدد ملے گی۔ مؤثر تشخیصی نظام سے دودھ اور گوشت کے معیار اور فوڈ سیفٹی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جدید انفرااسٹرکچر کے ساتھ ویٹرنری ماہرین اور محققین کی نئی نسل تیار کرنا بھی ہماری ترجیح ہے۔ اکیڈمک بلاک سے ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع مزید بڑھیں گے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور تشخیص کا مرکز بنایا جائے گا۔ تشخیصی لیبارٹریز کو مزید جدید اور ویکسین کی تیاری کی صلاحیت کو مزید مستحکم کریں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موبائل ویٹرنری سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک سہولیات پہنچائی جائیں گی۔ تحقیق کو ہاریوں کے عملی مسائل اور ضروریات کے حل سے براہِ راست جوڑا جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ لائیو اسٹاک کے جدید اور پائیدار طریقوں کو فروغ دیا جائے گا۔ سندھ کی مقامی اور قیمتی مویشی نسلوں کا تحفظ ہماری زرعی ترجیحات میں شامل ہے۔ مضبوط لائیو اسٹاک شعبہ، مستحکم دیہی معیشت اور خوشحال سندھ ہمارا عزم ہے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ملک کے لیے ایک مثالی ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔