کراچی میں ڈیڑھ ماہ قبل ڈرم سے ملنے والی لاش کا معمہ حال، خاتون سمیت 6 ملزمان گرفتار
فوٹو فائل
کراچی میں تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ڈرم سے برآمد ہونے والی لاش کا معمہ حل کرتے ہوئے پولیس نے خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سہراب گوٹھ انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے بس ٹرمینل کے قریب سے پلاسٹک کے ڈرم سے ملنے والی لاش کا معمہ حل کرتے ہوئے خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کو تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ قتل کی واردات رشتے کے تنازعے پر پیش آئی تھی جبکہ وزیر داخلہ سندھ نے اندھے قتل کا معمہ حل کرنے پر ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ اور ان کی ٹیم کو شاباش دی ہے۔
ترجمان انویسٹی گیشن ایسٹ پولیس کے مطابق سہراب گوٹھ تھانے کی حدود سپر ہائی وے بس ٹرمینل کے قریب سے 14 جولائی کو پلاسٹک ڈرم سے ایک شخص کی تعفن زدہ لاش برآمد ہوئی جسے مبینہ طور پر تیز دھار آلے کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔
مقتول کی شناخت 31 سالہ عالم زیب ولد نادر علی کے نام سے مقتول کے بھائی خوشحال خان نے کی۔ ترجمان کے مطابق مقتول کے بھائی کی مدعیت میں سہراب گوٹھ تھانے میں مقدمہ نمبر 348 سال 2026 بجرم دفعات 302 اور 201 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
جس کے بعد انویسٹی گیشن پولیس نے مسلسل جدوجہد کے بعد اندھے قتل کا معمہ حل کرلیا اور اس دوران انویسٹی گیشن پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر قتل میں ملوث خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت سلیم ، انور خان ، نور خان ، بابر خان ، گل زادہ اور ملزمہ سابرو بی بی کے ناموں سے ہوئی۔ ترجمان کے مطابق اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول اور ملزمان کے درمیان بیٹی کا رشتہ نہ دینے کے معاملے پر تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے ملزمان مبینہ طور پر مقتول کو قتل کر کے اس کی لاش کو پلاسٹک کے ڈرم میں ڈال کر ٹھکانے لگانے کے لیے سہراب گوٹھ بس ٹرمینل پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
واضح رہے کہ سہراب گوٹھ پولیس لاش ملنے کے اگلے روز جس سوزوکی پک اپ میں پلاسٹک کے ڈرم کے اندر لاش رکھ کر لائی گئی تھی جس کے بعد پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ڈرائیور تک پہنچی اور اُسے حراست میں لیا تھا۔
ڈی ایس پی سہراب گوٹھ اورنگزیب خٹک نے بتایا تھا کہ ڈرائیور نے پولیس کو ابتدائی تفتیش میں بیان دیا ہے کہ وہ کٹی پہاڑی کے قریب موجود تھا کہ 2 افراد آئے اور ان کے ساتھ ایک ڈرم تھا جسے سہراب گوٹھ چھوڑنے کا کہا اور کرایہ طے ہونے کے بعد وہ ڈرم گاڑی میں رکھ کر سہراب گوٹھ بس ٹرمینل کے قریب اتار کر کرایہ وصول کر کے وہاں سے چلا گیا تھا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے انویسٹی گیشن پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر کے قتل میں ملوث 6 ملزمان کی گرفتاری قابل ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندھے قتل کے مقدمے کا جدید تکنیکی ذرائع اور پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے سراغ لگانا پولیس کی محنت اور عزم کا نتیجہ ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے اندھے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر قرار دیا۔