صارفین پر بجلی گرنے کو تیار؛ 36 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان
حکومت صارفین پر بجلی گرانے کے لیے تیار ہے، جس کے نتیجے میں 36 ارب روپے سے زائد کا اضافہ بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
پہلے سے مہنگائی کے ہاتھوں ستائے بجلی صارفین پر ستمبر میں ایک اور بڑا مالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کے تحت ستمبر کے بجلی بلوں میں 36 ارب 54 کروڑ روپے اضافی وصول کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کرنے کی تجویز پر پاور ریگولیٹر نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جس کی منظوری کی صورت میں اس اضافے کا براہِ راست اثر ستمبر میں آنے والے بجلی کے بلوں پر پڑے گا۔
یاد رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی میں بجلی کی پیداوار پر آنے والے اخراجات کی بنیاد پر فی یونٹ 2 روپے 52 پیسے اضافے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جولائی کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف مہنگے ایندھن استعمال کیے گئے، جس کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔
اس درخواست پر سماعت کے موقع پر سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی طور پر جی ایس ٹی سمیت صارفین پر تقریباً 41 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم ریگولیٹری جائزے کے بعد موجودہ حساب کے مطابق اضافی فیول اخراجات کا حجم 36.54 ارب روپے بنتا ہے۔
اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ جولائی میں درآمدی ایل این جی سے 10.78 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی۔ ایل این جی سے بجلی کی پیداوار پر مجموعی طور پر تقریباً 77 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
مہنگی بجلی پیدا کرنے والے دیگر ذرائع میں فرنس آئل بھی شامل رہا۔ جولائی میں فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی پیدا ہوئی اور اس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس مد میں تقریباً 10 ارب 77 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
ڈیزل سے بھی تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 54 روپے 47 پیسے تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب بجلی کی مجموعی پیداوار میں پانی کا حصہ 39.81 فیصد، مقامی کوئلے کا 10.91 فیصد اور درآمدی کوئلے کا 14.38 فیصد رہا، جبکہ نیوکلیئر ذرائع سے 10.10 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت صرف 3 روپے 2 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
درخواست پر سماعت کے بعد اب فیصلہ پاور ریگولیٹر کے پاس ہے۔ اگر 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی گئی تو ستمبر میں صارفین کو بجلی کے بلوں کی صورت میں مزید رقم ادا کرنا ہوگی، جس سے پہلے ہی مہنگائی اور بھاری بجلی بلوں کا سامنا کرنے والے عوام پر 36 ارب 54 کروڑ روپے کا نیا بوجھ منتقل ہو سکتا ہے۔